حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 635
635 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيْهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيْهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اہل شام حجفہ سے احرام باندھیں گے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
635-سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اہل شام حجفہ سے احرام باندھیں گے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:635]
فائدہ:
اس حدیث میں میقات کا ذکر ہے، ذوالحلیفہ کا نیا نام آبارعلی ہے اور یہ مدینہ اور اس کے قرب و جوار اور اس کے پیچھے سے آنے والے لوگوں کے لیے میقات ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جحفہ: بید شام مصر اور ترکی کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ بستی ویران ہو چکی ہے، اب اس کے قریب مقام رابغ سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ کے شمال کی جانب 183 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
قرن منازل: نجد اور الرفاۃ سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، اس کی قریبی جگہ السیل سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یلملم: یہ یمن، پاکستان اور ہندوستان کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس حدیث میں اسلام کے ہر سو پھیل جانے کی پیش گوئی موجود ہے، اور ایسے ہی ہوا ہے، والحمد للہ۔ جو شخص حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ آئے گا، وہ ان میقات سے احرام باندھے گا، لیکن جو ان میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھیں گے۔
اس حدیث میں میقات کا ذکر ہے، ذوالحلیفہ کا نیا نام آبارعلی ہے اور یہ مدینہ اور اس کے قرب و جوار اور اس کے پیچھے سے آنے والے لوگوں کے لیے میقات ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جحفہ: بید شام مصر اور ترکی کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ بستی ویران ہو چکی ہے، اب اس کے قریب مقام رابغ سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ کے شمال کی جانب 183 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
قرن منازل: نجد اور الرفاۃ سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، اس کی قریبی جگہ السیل سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یلملم: یہ یمن، پاکستان اور ہندوستان کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس حدیث میں اسلام کے ہر سو پھیل جانے کی پیش گوئی موجود ہے، اور ایسے ہی ہوا ہے، والحمد للہ۔ جو شخص حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ آئے گا، وہ ان میقات سے احرام باندھے گا، لیکن جو ان میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھیں گے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 635 سے ماخوذ ہے۔