حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 618
618 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَي الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِاردو ترجمہ مسند الحمیدی
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
618-یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:618]
فائدہ:
ان احادیث میں اذان کے جواب کا ذکر ہے، جس طرح اذان کے الفاظ ہیں، انھی کی مثل اذان کا جواب ہے، جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح سامع بھی کہے، صرف «حي على الفلاح، حي على الصلاة» کے جواب میں «لا حول ولا قوة الا بالله» کہے، اس طرح «الصلاة خير من النوم» کے جواب میں بھی یہی الفاظ کہے۔
جب مؤذن «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو اس کے جواب میں بھی یہی الفاظ دہراۓ جائیں گے، بعض لوگ لفظ”محمد“ کے بعد «صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں، پورا جملہ نہیں دہراتے جو کہ درست نہیں ہے، اور اذان کے انتقام پر یہ دعا پڑھنی چاہیے: «اللهم رب هذه الدعوة التامة۔۔۔» [صحيح البخاري: 614]
بعض لوگ اذان کے جواب میں لاپروائی سے کام لیتے ہیں، حالانکہ اس کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے۔
ان احادیث میں اذان کے جواب کا ذکر ہے، جس طرح اذان کے الفاظ ہیں، انھی کی مثل اذان کا جواب ہے، جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح سامع بھی کہے، صرف «حي على الفلاح، حي على الصلاة» کے جواب میں «لا حول ولا قوة الا بالله» کہے، اس طرح «الصلاة خير من النوم» کے جواب میں بھی یہی الفاظ کہے۔
جب مؤذن «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو اس کے جواب میں بھی یہی الفاظ دہراۓ جائیں گے، بعض لوگ لفظ”محمد“ کے بعد «صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں، پورا جملہ نہیں دہراتے جو کہ درست نہیں ہے، اور اذان کے انتقام پر یہ دعا پڑھنی چاہیے: «اللهم رب هذه الدعوة التامة۔۔۔» [صحيح البخاري: 614]
بعض لوگ اذان کے جواب میں لاپروائی سے کام لیتے ہیں، حالانکہ اس کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 618 سے ماخوذ ہے۔