حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 608
608 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ: «إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ، أَوْ فِي سَبِيلٍ مَيْتَاءَ فَعَرِّفْهُ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ، أَوْ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ، أَوْ غَيْرِ سَبِيلِ مَيْتَاءَ فَفِيهِ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کو خزانہ ملا، تو اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں یہ کسی رہائشی آبادی سے ملا ہے، تو تم اس کا اعلان کرتے رہو لیکن اگر تمہیں یہ زمانہ جاہلیت کے کسی کھنڈر سے ملا ہے یا غیر رہائشی آبادی سے ملا ہے یا عام گزرگاہ سے ہٹ کر کسی راستے سے ملا ہے، تو پھر اس میں اور ’رکاز‘ میں ’خمس‘ کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
608- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص کو خزانہ ملا، تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں یہ کسی رہاشی آبادی سے ملا ہے، توتم اس کا اعلان کرتے رہو لیکن اگر تمہیں یہ زمانہ جاہلیت کے کسی کھنڈ رسے ملاہے یا غیر رہائشی آبادی سے ملا ہے یا عام گزر گاہ سے ہٹ کر کسی راستے سے ملا ہے، تو پھر اس میں اور ”رکاز“ میں ”خمس“ کی ادائیکی لازم ہوگی۔ “ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:608]
فائدہ:
اس حدیث میں پہلا مسئلہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر آباد راستے میں کوئی گری پڑی قیمتی چیز مل جائے تو اس کا ایک سال تک اعلان کرنا چاہیے، اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کو واپس کر دی جائے لیکن اگر نہ ملے تو جس کو ملی تھی، وہی اس کا مالک ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ویران جگہ سے کوئی چیز ملے یا مدفون چیز ملے تو اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروائے یا غریبوں وغیرہ میں تقسیم کر دے، باقی اپنے استعمال میں لے آئے۔
اس حدیث میں پہلا مسئلہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر آباد راستے میں کوئی گری پڑی قیمتی چیز مل جائے تو اس کا ایک سال تک اعلان کرنا چاہیے، اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کو واپس کر دی جائے لیکن اگر نہ ملے تو جس کو ملی تھی، وہی اس کا مالک ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ویران جگہ سے کوئی چیز ملے یا مدفون چیز ملے تو اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروائے یا غریبوں وغیرہ میں تقسیم کر دے، باقی اپنے استعمال میں لے آئے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 608 سے ماخوذ ہے۔