حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 604
604 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَمَرَ بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ، فَقَالَ لِقَيِّمِهِ: هَلْ أَهْدَيْتَ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ شَيْئًا؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّي ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيْوَرِّثُهُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
قیس بن سائب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ایک بکری ذبح کی گئی انہوں نے اپنے ملازم سے یہ کہا: تم ہمارے یہودی پڑوسی کو بھی بھجو دو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبرئیل علیہ السلام پڑوسی کے بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1943 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پڑوسی کے حقوق کا بیان۔`
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنا دیں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1943]
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنا دیں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1943]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک پڑوسی وہ ہے جو غیرمسلم ہے یعنی کافرو مشرک اور یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ، اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے، دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے، اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے، ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے، ایسے پڑوسی کو اسلام، رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں، ایسے ہی مسافربھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
وضاحت:
1؎:
پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک پڑوسی وہ ہے جو غیرمسلم ہے یعنی کافرو مشرک اور یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ، اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے، دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے، اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے، ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے، ایسے پڑوسی کو اسلام، رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں، ایسے ہی مسافربھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1943 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1943 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے... [سنن ترمذي 1943]
قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
— سوال —
قربانی کا گوشت غیر مسلم لوگوں کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
— الجواب —
قربانی کے گوشت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيْرَ﴾
پس اس سے کھاؤ اور فاقہ کش فقیر کو کھلاؤ۔
(الحج: 28)
اور فرمایا: ﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
پس اس میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔
(الحج:36)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا، خود کھانا، امیروں مثلًا رشتہ داروں اور دوستوں کو کھلانا اور غریبوں کو کھلانا بالکل صحیح ہے اور چونکہ قربانی تقربِ الٰہی و عبادت ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ قربانی کا گو شت صرف مسلمانوں کو کھلایا جائے۔
اگر تالیفِ قلب کا معاملہ ہو تو پھر سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 60 کی رُو سے اُن کا فروں کو یہ گو شت کھلانا جائز ہے جو اسلام کے معاند دشمن نہیں بلکہ نرمی والا سلوک رکھتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، پھر وہ جب آئے تو کہا: کیا تم نے (اس میں سے) ہمارے یہودی پڑوسی کو بھی بھیجا ہے؟
آپ نے یہ بات دو دفعہ فرمائی اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِيْ بِالجَارِ حَتَّي ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
جبریل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں کہتے رہے، حتی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔
(سنن ترمذی: 1943، مسند حمیدی: 593، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ تالیفِ قلب اور پڑوسی وغیرہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم کو بھی قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 3 صفحہ 281 اور 282) للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
— سوال —
قربانی کا گوشت غیر مسلم لوگوں کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
— الجواب —
قربانی کے گوشت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيْرَ﴾
پس اس سے کھاؤ اور فاقہ کش فقیر کو کھلاؤ۔
(الحج: 28)
اور فرمایا: ﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
پس اس میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔
(الحج:36)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا، خود کھانا، امیروں مثلًا رشتہ داروں اور دوستوں کو کھلانا اور غریبوں کو کھلانا بالکل صحیح ہے اور چونکہ قربانی تقربِ الٰہی و عبادت ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ قربانی کا گو شت صرف مسلمانوں کو کھلایا جائے۔
اگر تالیفِ قلب کا معاملہ ہو تو پھر سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 60 کی رُو سے اُن کا فروں کو یہ گو شت کھلانا جائز ہے جو اسلام کے معاند دشمن نہیں بلکہ نرمی والا سلوک رکھتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، پھر وہ جب آئے تو کہا: کیا تم نے (اس میں سے) ہمارے یہودی پڑوسی کو بھی بھیجا ہے؟
آپ نے یہ بات دو دفعہ فرمائی اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِيْ بِالجَارِ حَتَّي ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
جبریل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں کہتے رہے، حتی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔
(سنن ترمذی: 1943، مسند حمیدی: 593، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ تالیفِ قلب اور پڑوسی وغیرہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم کو بھی قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 3 صفحہ 281 اور 282) للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 1943 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5152 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پڑوسی کے حق کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: ” جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5152]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: ” جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5152]
فوائد ومسائل:
ہمسایہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا شرعی فریضہ ہے علماء کا بیان ہے کہ غیر مسلم ہمسائے کا صرف ایک حق ہے۔
یعنی حق ہمسائیگی اور مسلمان ہمسائے کے دو حق ہیں۔
ایک حق ہمسایئگی دوسرا حق اسلام جب کہ مسلمان رشتہ دار ہمسائے کے تین حق ہوتے ہیں۔
حق ہمسائیگی حق اسلام اور حق قرابت
ہمسایہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا شرعی فریضہ ہے علماء کا بیان ہے کہ غیر مسلم ہمسائے کا صرف ایک حق ہے۔
یعنی حق ہمسائیگی اور مسلمان ہمسائے کے دو حق ہیں۔
ایک حق ہمسایئگی دوسرا حق اسلام جب کہ مسلمان رشتہ دار ہمسائے کے تین حق ہوتے ہیں۔
حق ہمسائیگی حق اسلام اور حق قرابت
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5152 سے ماخوذ ہے۔