601 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَعْمَي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ» ، قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًا، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ، وَنَفِهَتَ نَفْسُكَ، فَقُمْ، وَنَمْ، وَصُمْ، وَأَفْطِرْ»سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ پتا چلا ہے، تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو روزانہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تمہاری دونوں آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اگر تم ایسا کرو گے، تو تمہاری نظر کمزور ہو جائے گی، تم خود کمزور ہو جاؤ گے۔ تم نوافل بھی پڑھا کرو۔ اور سو بھی جایا کرو۔ نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو۔ اور چھوڑ بھی دیا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ساری رات قیام کرے اور روزانہ روزہ رکھے، اس کو ڈانٹا جائے، اس کی تعریف کی بجائے مذمت کی جائے، کیونکہ مؤمن حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی کمی نہیں کرتا۔
گویا سحر کے وقت سوتے ہوتے یہی ترجمہ باب ہے۔
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر رات کے بارہ گھنٹے ہوں تو داود ؑ پہلے چھ گھنٹے سوئے رہتے، پھر تہائی شب، یعنی چار گھنٹے عبادت کرتے، اس کے بعد چھٹا حصہ، یعنی دو گھنٹے محو استراحت رہتے، گویا سحری کا وقت سو کر گزار دیتے۔
(2)
عنوان بالا کا مقصد ہے کہ جو شخص سحری کے وقت سویا رہا وہ قابل ملامت نہیں بشرطیکہ رات کی حق ادائیگی پہلے کر چکا ہو۔
اس وقت سونے میں حکمت یہ ہے کہ صبح کی نماز کے لیے نشاط حاصل ہو اور تھکاوٹ وغیرہ دور ہو جائے۔
ایسا کرنا ریا کاری سے بھی بچاؤ کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص رات کے وقت عبادت کر کے سو جائے تو بیداری کے وقت اس کے چہرے سے عبادت کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔
(فتح الباري: 23/3)
اس حدیث میں نفلی روزوں میں سے افضل ترین روزے صوم داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے، کہ ایک دن روزہ رکھ لیا جائے اور ایک دن چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اتنی طاقت دے وہ اس پرعمل کر سکتا ہے، ورنہ نفلی امور میں شریعت کسی پر سختی نہیں کرتی، بلکہ صرف ترغیب دلاتی ہے۔
نیز اس حدیث میں نفلی نمازوں میں سے افضل نماز صلاۃ داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے کہ وہ آدھی رات سوجاتے، پھر تیسرے حصے میں قیام کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے، سبحان اللہ۔
اس انداز میں نیند بھی پوری رہتی ہے اور نفلی عبادت بھی کھل کر ہوجاتی ہے۔ بعض گمراہ لوگوں کی عبادت سنت کے مخالف ہوتی ہے، عبادت خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، بس یہ خیال رکھا جائے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہونی چاہئے۔