حدیث نمبر: 599
599 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَي مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَمَا وُلُّوا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں طرف ہوں گے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو والی (یعنی حاکم یا قاضی) نہیں بنائے گئے۔ لیکن وہ اپنے فیصلے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1827، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4484، 4485، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7098، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5394، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5885، 5886، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 20219، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6596»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
599- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں طرف ہوں گے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو والی (یعنی حاکم یا قاضی) نہیں بنائے گۓ۔ لیکن وہ اپنے فیصلے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:599]
فائدہ:
اس حدیث میں ہر اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے جو اپنے ماتحت افراد کے ساتھ انصاف کرتا ہے، کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا اور ظلم مطلقاً حرام ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، ان کی کیفیت کو ہم نہیں جانتے، بلکہ ہم کہتے ہیں: جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 599 سے ماخوذ ہے۔