حدیث نمبر: 596
596 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3004، 5972، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2549، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 318، 419، 420، 421، 423، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3103، 4174، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4296، 7738،8643، 8644، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2528، 2529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1671، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2782، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 17900، 17901، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6601»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3004 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3004. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی۔ آپ نےفرمایا: ’’ کیا تمھارے ماں باپ زندہ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں (زندہ ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ’’ان کی خدمت کرنے میں خوب محنت کر(یہی تیرا جہاد ہے)۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3004]
حدیث حاشیہ: یعنی ان کی خدمت بجا لانا یہی تیرا جہاد ہے۔
اسی سے امام بخاریؒ نے باب کا مطلب نکالا کہ ماں باپ کی رضا مندی جہاد میں جانے کے واسطے لینا ضروری ہے۔
کیونکہ آنحضرتﷺ نے ان کی خدمت جہاد پر مقدم رکھی۔
کہتے ہیں کہ حضرت اویس قرنیؒ کی والدہ ضعیفہ زندہ تھیں‘ اور یہ ان کی خدمت میں مصروف تھے۔
اس لئے آنحضرتﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر نہ ہوسکے اور صحابیت کے شرف سے محروم رہ گئے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3004 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3004 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3004. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی۔ آپ نےفرمایا: ’’ کیا تمھارے ماں باپ زندہ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں (زندہ ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ’’ان کی خدمت کرنے میں خوب محنت کر(یہی تیرا جہاد ہے)۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3004]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ جہاد کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے والدین کی خدمت کو جہاد پر مقدم کیا ہے۔
یہ اس لیے کہ ماں باپ کی خدمت فرض عین ہے جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے البتہ دشمن سے لڑنے کے لیے حاکم وقت جہاد کا عام حکم دے دے تو اس صورت میں جہاد فرض عین ہو گا ایسے حالات میں جہاد میں شرکت کے لیے والدین کی اجازت ضروری نہیں۔
ہمارے ہاں اس مسئلے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے کہ جہاد کے لیے والدین کی اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں؟ بعض عسکری تنظیمیں جہاد کے لیے والدین کی اجازت کو لائق توجہ ہی خیال نہیں کرتیں ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے۔
کہ جہاد اگر فرض عین ہو تو والدین کی اجازت لینا ضروری نہیں اور جہاد دو صورتوں میں فرض عین ہوتا ہے۔

دشمن جب اسلامی ملک پر حملہ کردے۔

حاکم وقت جہاد کا عام حکم دے دے۔
مذکورہ دو صورتوں میں والدین کی اجازت ضروری نہیں ان کے علاوہ جہاد کی جو صورت ہو گی اس میں والدین سے اجازت لینا ہو گی،چنانچہ حضرت ابو سعید خدری ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
رسول اللہ ﷺنے اس سے دریافت فرمایا: ’’یمن میں تمھارا کوئی رشتے دار موجود ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرے والدین موجود ہیں آپ نے پوچھا: ’’تمھارے والدین نے تمھیں اجازت دی تھی؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’پھر تم واپس چلے جاؤ اور اپنے والدین سے اجازت طلب کرو اگر وہ تمھیں اجازت دیں تو جہاد میں شرکت کرو بصورت دیگر ان سے سلوک کرتے رہو۔
‘‘ (مسند أحمد: 57/3،76)
اگرچہ اس حدیث سند میں کچھ کلام ہے تاہم دیگر صحیح احادیث سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے۔
بہر حال جہاد کے فرض کفایہ ہونے کی صورت میں والدین سے اجازت لینا ضروری ہے اجازت نہ لینے کے متعلق ایک حدیث پیش کی جاتی ہے حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور عرض کرنے لگا۔
اللہ کے رسول اللہ ﷺ! سب سے افضل عمل کون ساہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نماز اس نے عرض کی: اس کے بعد کس عمل کی فضیلت ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جہاد کی۔
‘‘ اس نے کہا میرے تو والدین زندہ ہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔
‘‘ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے!میں اپنے والدین کو چھوڑ کر ضرور جہاد میں شرکت کروں گا۔
آپ نے فرمایا: ’’پھر تم بہتر جانتے ہو۔
‘‘ (مسند أحمد172/2)
لیکن اس روایت کی سند میں ابن لہیعہ اور حیی بن عبد اللہ المعافری ضعیف راوی ہیں۔
محدثین نے ان کے متعلق کلام کیا ہے اگر اس کی صحت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو حافظ ابن حجر ؒنے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا ہے اس روایت کو جہاد کی اس صورت پر محمول کیا جائے گا جو فرض عین ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 170/6)
الغرض والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی تعظیم بجا لانا انتہائی ضروری ہے اور جہاد کے فرض کفایہ ہونے کی صورت میں ان سے اجازت لینا بھی لازم ہے اس کے بغیر جہاد میں شرکت کرنا محل نظر ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3004 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5972 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5972. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کی: میں جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے ان کی خدمت کرنا ہی جہاد ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5972]
حدیث حاشیہ: یعنی انہیں کی خدمت میں کوشش کرتے رہو تم کو اس سے جہاد کا ثواب ملے گا۔
مراد وہی جہاد ہے جو فرض کفایہ ہے کیونکہ فرض کفایہ دوسرے لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا مگر اس کے ماں باپ کی خدمت اس کے سوا کون کرے گا۔
اگر جہاد فرض عین ہو جائے اس وقت والدین کی اجازت ضروری نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5972 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5972. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کی: میں جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے ان کی خدمت کرنا ہی جہاد ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5972]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو تو ان کی خدمات کرنے میں بھر پور کوشش کی جائے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنے میں اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کی جائیں تو یہ خدمات دشمن سے قتال کرنے کے قائم مقام ہوں گی۔
(2)
واضح رہے کہ اس جہاد سے مراد وہی جہاد ہے جو فرض کفایہ ہے کیونکہ فرض کفایہ دوسرے لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہو جاتا ہے لیکن والدین کی خدمت اس کے بغیر کوئی دوسرا نہیں کرے گا۔
اگر جہاد فرض عین ہو تو اس وقت والدین سے اجازت لینا ضروری نہیں، پھر دین اسلام کی سر بلندی کے لیے ہر چیز کو قربان کر دیا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2549 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور آپ سے عرض کیا،میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں،اس پر اللہ سےاجر کا طالب ہوں،آپ نے پوچھا،"کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟"اس نے کہا،جی ہاں،بلکہ دونوں زندہ ہیں،آپ نے پوچھا،"تم اللہ سے اجر کے خواہاں ہو؟"اس نے کہا،جی ہاں،آپ نے فرمایا:"تو پھر اپنے والدین کی طرف لوٹ جاؤ۔"اور ان دونوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6507]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، جب ماں باپ خدمت کے سخت محتاج ہوں، کوئی دوسرا ان کی خبرگیری اور نگہداشت کرنے والا نہ ہو اور اس بنا پر وہ اجازت نہ دیں تو پھر ان کی خدمت و خبر گیری ہجرت اور جہاد سے مقدم ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2549 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2549 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرآپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو آپ نے پوچھا،"کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں۔"اس نے کہا،جی ہاں،فرمایا:"تو پھر خوب محنت سے ان کی خدمت کر۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6504]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: امام مالک، شافعی، احمد، اوزاعی، ثوری وغیرہم کا موقف اور نظریہ یہ ہے کہ جہاد میں نکلنے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے، جب جہاد فرض عین نہ ہو، لیکن اگر دشمن کی قوت و طاقت کی کثرت کے پیش نظر تمام افراد کا نکلنا ناگزیر ہو، کسی کے لیے پیچھے رہنا جائز نہ ہو، کیونکہ نفیر عام ہے تو پھر اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، الا یہ کہ ان کی خدمت و حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہو اور وہ خود اپنے آپ کو سنبھال نہ سکتے ہوں تو پھر بقول امام ابن حزم اس پر جہاد میں حصہ لینا بالاجماع ساقط ہو جائے گا، حافظ ابن حجر نے، اس حدیث سے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ والدین کی اجازت کے بغیر اگر جہاد کے لیے نکلنا جائز نہیں ہے تو عام سفر کے لیے بالاولیٰ نکلنا جائز نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2549 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1671 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ماں باپ کو چھوڑ کر جہاد میں نکلنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ (زندہ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1671]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ماں باپ کی پوری پوری خدمت کرو، کیوں کہ وہ تمہاری خدمت کے محتاج ہیں، اسی سے تمہیں جہاد کا ثواب حاصل ہوگا، بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر رضا کارانہ طورپرجہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، لیکن اگر حالات وظروف کے لحاظ سے جہاد فرض عین ہے تو ایسی صورت میں اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ روکنے کے باوجود وہ جہاد میں شریک ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1671 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2529 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ماں باپ کی مرضی کے بغیر جہاد کرنے والے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دونوں میں جہاد کرو ۱؎ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2529]
فوائد ومسائل:
والدین کی خدمت مسلمان اولاد کا اہم ترین فریضہ ہے۔
نفلی جہاد کے مقابلے میں ان کی خدمت کو اولیت حاصل ہے۔
بالخصوص جب کہ ماں باپ اس کی خدمت کے محتاج ہوں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2529 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2528 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ماں باپ کی مرضی کے بغیر جہاد کرنے والے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2528]
فوائد ومسائل:
والدین مسلمان ہوں او ر جہاد فرض نہ ہو تو ان کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔
کیونکہ دیگر مجاہدین اس کی کفایت کر سکتے ہیں۔
لیکن جب جہاد فرض ہو تو اجازت لینے کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں۔
تاہم ایسے حالات میں کہ والدین باوجود مسلمان ہونے کے جہاد کی شرعی اہمیت و ضرورت سے آگاہ نہ ہوں۔
یا آگاہ نہ ہونا چاہیں۔
اور بذدلی کا شکار ہوں۔
مادی خدمات کے لئے اولاد بھی موجود ہو اور پھر بھی اجازت نہ دیں تو پھر مسئلہ امیر جہاد کے سامنے پیش کیا جائےاور اس کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔
واللہ أعلم بالصواب
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2528 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3105 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ماں باپ کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3105]
اردو حاشہ: باب اور حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جہاد فرض عین نہیں، فرض کفایہ ہے، لہٰذا اگر کسی شخص کا گھر رہنا ضروری ہو، مثلا: والدین کی خدمت وغیرہ کے لیے، تو وہ جہاد کو نہ جائے۔ گھر رہ کر والدین اور بیوی بچوں کے حقوق ادا کرے۔ اس کے لیے یہی جہاد ہے۔ ہاں جس شخص پر جہاد فرض عین ہوجائے، مثلاً: سرکاری فوجی یا جب امیر سب کو نکلنے کا حکم دے تو پھر اسے بھی جانا پڑے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3105 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4168 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہجرت پر بیعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4168]
اردو حاشہ: (1) ہجرت پر بیعت لینا مشروع نہیں رہا‘ ہاں دار کفر سے دار اسلام کی طرف ہجرت باقی ہے لیکن بغیر بیعت کے۔
(2) ترجمۃ الباب یعنی ہجرت پر بیعت کے ساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بنتی ہے کہ ہجرت پر بیعت کی نیت سے آنے والے شخص سے رسول اللہ ﷺ نے،اس کے والدین کی عدم رضا مندی کی وجہ سے بیعت نہیں لی۔ اگر اس کے والدین کا مسئلہ نہ ہوتا تو آپ  بیعت لے لیتے۔ واللہ أعلم
(3) والدین کی نافرمانی اور ان کوایذا پہنچانا حرام اور ناجائز ہے۔ اسی طرح اگر جہاد کی فرضیت کے حالات بھی نہ ہوں تو اجازت کے بغیر جانا درست نہیں۔
(4) ہر دار کفر سے ہجرت کرنا فرض نہیں اگر قبضہ کافروں کا ہومگر وہ دینی امور میں رکاوٹ نہ ڈالتے ہوں تو وہاں سے ہجرت فرض نہیں جیسا کہ رسول اﷲ ﷺ نے مسلمانوں کو خود حبشہ بھیجا‘حالانکہ وہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4168 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2782 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کے ارادے سے آیا ہوں، جس سے میرا مقصد رضائے الٰہی اور آخرت کا ثواب ہے، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2782]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
والدین کو پریشان اور غمگین کرنے س بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

(2)
والدین کو پریشان کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایسا کام کیا جائے جس سے وہ خوش ہو جائیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2782 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1083 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کیا تیرے والدین بقید حیات ہیں؟ ‘‘ وہ بولا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ پس ان دونوں (کی خدمت) میں جدوجہد کرو۔ ‘‘ (بخاری و مسلم) مسند احمد اور ابوداؤد میں ابوسعید کی روایت بھی اسی طرح منقول ہے۔ اس میں اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ واپس چلے جاؤ ان سے اجازت طلب کرو۔ پھر اگر وہ دونوں تجھے اجازت دے دیں تو درست ورنہ ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرو۔ ‘‘ «بلوغ المرام/حدیث: 1083»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الجهاد، بإذن الأبوين، حديث:3004، ومسلم، البر والصلة، باب برالوالدين وأيهما أحق به، حديث:2549، وحديث أبي سعيد: أخرجه أبوداود، الجهاد، حديث:2530، وأحمد:3 /75.»
تشریح: 1. اس حدیث سے والدین کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کی نظر میں جہاد جیسا فریضہ بھی والدین کی رضامندی کے بغیر ادا نہیں کیا جاسکتا۔
2.آج کا نوجوان والدین کو خاطر میں لانے کے لیے تیار ہی نہیں۔
اپنی من مانی کرتا ہے اور والدین کو اپنی رائے کا پابند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
3.والدین کی رضامندی کو اتنی اہمیت اس لیے دی گئی ہے کہ جہاد تو فرض کفایہ ہے جبکہ والدین کی اطاعت فرض عین ہے۔
ظاہر ہے کہ فرض عین کو فرض کفایہ پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1083 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 595 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
595- سیدنا عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہوا۔اس نے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لیے حاضرہواہوں، تاکہ ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کروں۔اورمیں اپنے ماں،باپ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپسں جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:595]
فائدہ:
اس حدیث سے والدین کی رضا مندی کی اہمیت و فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ خواہ کام کس قدر ہی نیکی کا کیوں نہ ہو ان کی رضا مندی ضروری ہے۔ اب ہجرت سے بڑھ کر افضل کون ساعمل ہے؟ بعض لوگ قتال میں جانے کے لیے بھی والدین کی اجازت ضروری نہیں سمجھتے، جو کہ درست نہیں ہے۔ نیز دیکھیں: 596۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 595 سے ماخوذ ہے۔