حدیث نمبر: 587
587 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنَ الْأَزْدِ يُقَالَ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: «كُونُوا عَلَي مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَي إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ اثْبُتُوا وَرُبَّمَا قَالَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت عرفہ میں ایسی جگہ وقوف کیے ہوئے تھے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقوف کی جگہ سے دور تھی انہوں نے بتایا: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنے اسی مقام تک رہنا کیونکہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وراثت کے وارث ہو۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے کہ تم ان الفاظ کو یاد رکھو اور بعض اوقات یہ کہتے تھے: تم اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 587
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2818، 2819، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1705، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3014، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3996، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1919، والترمذي فى «جامعه» برقم: 883، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3011، والبيهقي فى«سننه الكبير»برقم: 9558، 9559، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 17506»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3017 | سنن ترمذي: 883 | سنن ابي داود: 1919 | سنن ابن ماجه: 3011

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3017 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔`
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں موقف (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3017]
اردو حاشہ: عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔ اگرچہ رسول اللہﷺ نے جبل رحمت کے قریب وقوف فرمایا تھا لیکن ہر شخص تو اس جگہ وقوف نہیں کر سکتا، لہٰذا جہاں کسی کو جگہ ملے وہیں ٹھہر جائے، ثواب میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3017 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 883 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان۔`
یزید بن شیبان کہتے ہیں: ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری رضی الله عنہ آئے، ہم لوگ موقف (عرفات) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ۱؎ تو یزید بن مربع نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تم لوگ مشاعر ۲؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 883]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ جملہ مدرج ہے عمرو بن دینار کا تشریحی قول ہے۔

2؎:
مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 883 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1919 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ کا بیان۔`
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے (وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو (عمرو بن عبداللہ) امام سے دور سمجھتے تھے)، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر (نشانیوں کی جگہوں) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1919]
1919. اردو حاشیہ: میدان عرفات سارا ہی محل وقوف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1919 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3011 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عرفات میں کہاں ٹھہرے؟`
یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3011]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اکرم ﷺ پہاڑوں کے دامن میں چٹانوں کے پاس ٹھہرے تھے۔

(2)
حاجی کے لیے ضروری نہیں کہ عرفات میں اسی جگہ ٹھہرے جہاں رسول اکرم ﷺ ٹھہرے تھے بلکہ وادی عرفہ کو چھوڑ کر پورے میدان عرفات میں جہاں بھی جگہ ملے ٹھہر جائے۔

(3)
ہماری شریعت میں حج کے احکام و مسائل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق ہیں۔
اہل عرب نے ان میں جو تبدیلیاں کرلی تھیں یا جو بدعات ایجاد کرلی تھیں رسول اللہﷺ نےاپنے عمل سے ان کی اصلاح کرکے صحیح طریقہ سکھا دیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3011 سے ماخوذ ہے۔