حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 582
582 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا تُغْزَي مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَي الْكُفْرِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا حارث بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آج کے دن کے بعد مکہ پر حملہ نہیں کیا جا سکے گا۔“ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ کفر کی بنیاد پر ایسا نہیں ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
582- سیدنا حارث بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوۓ سنا ہے: ”آج کے دن کے بعد مکہ پر حملہ نہیں کیا جاسکے گا۔“ سفیان کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہےٗ کفر کی بنیاد پر ایسا نہیں ہوگا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:582]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے وقت کے لیے مکہ میں لڑائی کی اجازت دی گئی تھی، اس کے بعد قیامت تک کے لیے منع کر دیا گیا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے وقت کے لیے مکہ میں لڑائی کی اجازت دی گئی تھی، اس کے بعد قیامت تک کے لیے منع کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 582 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1611 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´فتح مکہ کے دن فرمان نبوی ”آج کے بعد مکہ میں جہاد نہیں کیا جائے گا“ کا بیان۔`
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1611]
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1611]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی مکہ اب دار الحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہوگا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی مکہ اب دار الحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہوگا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1611 سے ماخوذ ہے۔