حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 577
577 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ ﴿ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ "اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» (سورہ تکویر:17) کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
577- سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» (یعنی سورۃ تکویر:17) کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:577]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر میں مختلف اوقات میں مختلف صورتوں کی تلاوت کرنی چاہیے کبھی بڑی اور کبھی چھوٹی سورتوں کی، امام کو موقع محل دیکھ کر جماعت کروانی چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر میں مختلف اوقات میں مختلف صورتوں کی تلاوت کرنی چاہیے کبھی بڑی اور کبھی چھوٹی سورتوں کی، امام کو موقع محل دیکھ کر جماعت کروانی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 577 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 952 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھنے کا بیان۔`
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 952]
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 952]
952۔ اردو حاشیہ: صبح کی نماز میں کبھی کبھی اس سورت کو پڑھنا مسنون ہے۔ اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کی مکمل عکاسی کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ اور «﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾» نے بوڑھا کر دیا ہے۔ [جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3297]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 952 سے ماخوذ ہے۔