569 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا قَالَ سُفْيَانُ: وَالْأَحْمَسُ الشَّدِيدُ عَلَي دِينِهِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُسَمَّي الْحُمْسَ وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدِ اسْتَهْوَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ إِنْ عَظَّمْتُمْ غَيْرَ حَرَمِكُمُ اسْتَخَفَّ النَّاسُ بِحَرَمِكُمْ فَكَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَرَمِ "سیدنا محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے ہیں، میں نے سوچا ان کا تعلق حمس (یعنی قریش) کے ساتھ ہے، یہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سفیان کہتے ہیں: احمس اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو دینی اعتبار سے سخت ہو، قریش کا نام حمس رکھا گیا تھا، کیونکہ شیطان نے انہیں ایک غلط فہمی کا شکار کر دیا تھا۔ اس نے انہیں یہ کہا کہ اگر تم لوگ اپنے حرم سے باہر کی جگہ کی تعظیم کرو گے، تو لوگ تمہارے حرم کی حدود کو کم تر محسوس کرنا شروع کر دیں گے۔ اس لیے وہ لوگ حرم کی حدود سے باہر نہیں جاتے تھے۔