حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 551
551 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
551- ”سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:551]
فائدہ:
اس حدیث میں وراثت کا ایک اہم مسئلہ بیان ہوا ہے کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يتوارث أهل ملتين شتي» دو مختلف ملتوں والے آپس میں (کسی چیز میں بھی) وارث نہیں بن سکتے۔ [سنن ابي داؤد: 2911 اس كو امام ابن الجارود 967 نے صحیح کہا ہے]
علامہ نووی (متوفی: 676ھ) لکھتے ہیں: وأمـا الـمسـلـم فلا يرث الكافر أيضا عند جـمـاهـيـر الـعلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم ”جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں کے نزدیک مسلم، کافر کا وارث نہیں بن سکتا“۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 2/ 33]
اس حدیث میں وراثت کا ایک اہم مسئلہ بیان ہوا ہے کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يتوارث أهل ملتين شتي» دو مختلف ملتوں والے آپس میں (کسی چیز میں بھی) وارث نہیں بن سکتے۔ [سنن ابي داؤد: 2911 اس كو امام ابن الجارود 967 نے صحیح کہا ہے]
علامہ نووی (متوفی: 676ھ) لکھتے ہیں: وأمـا الـمسـلـم فلا يرث الكافر أيضا عند جـمـاهـيـر الـعلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم ”جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں کے نزدیک مسلم، کافر کا وارث نہیں بن سکتا“۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 2/ 33]
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 551 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2010 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´وادی محصب میں اترنے کا بیان۔`
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟ “، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎ “، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2010]
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟ “، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎ “، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2010]
فوائد ومسائل:
1۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے والد کا ترکہ ہجرت کی بنا پر چھوڑ دیا تھا۔
اور ابو طالب کی جائیداد طالب اور عقیل کو ملی تھی۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوجہ مسلمان ہونے کے اس کے وارث نہ ہوئے تھے۔
اور پھر طالب بد ر کے موقع پرلا پتہ ہوگیا۔
تو عقیل نے تمام گھر پر قبضہ کرلیا۔
2۔
وادی محصب (ابطح) میں اترنا اظہار تشکر کے طور پر تھا۔
کہ یہیں قریش نے نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کے بایئکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔
آج اللہ نے اس کے آثار مٹا کر نتیجہ الٹ دیا تھا۔
یعنی اللہ نے ان مقامات کو اسلام کا مرکز بنا دیا تھا۔
اور مسلمان ان پر غالب آگئے تھے۔
اسی لئے یہاں شکرانے کے طو ر پر اُترنا مستحب گردانا جاتا ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے والد کا ترکہ ہجرت کی بنا پر چھوڑ دیا تھا۔
اور ابو طالب کی جائیداد طالب اور عقیل کو ملی تھی۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوجہ مسلمان ہونے کے اس کے وارث نہ ہوئے تھے۔
اور پھر طالب بد ر کے موقع پرلا پتہ ہوگیا۔
تو عقیل نے تمام گھر پر قبضہ کرلیا۔
2۔
وادی محصب (ابطح) میں اترنا اظہار تشکر کے طور پر تھا۔
کہ یہیں قریش نے نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کے بایئکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔
آج اللہ نے اس کے آثار مٹا کر نتیجہ الٹ دیا تھا۔
یعنی اللہ نے ان مقامات کو اسلام کا مرکز بنا دیا تھا۔
اور مسلمان ان پر غالب آگئے تھے۔
اسی لئے یہاں شکرانے کے طو ر پر اُترنا مستحب گردانا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2010 سے ماخوذ ہے۔