مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 544
544 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَي الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذِقِ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ فَقَالَ: «سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذِقُ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ابو جویریہ جرمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ پشت لگا کر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے باذق (شراب کی مخصوص قسم) کے بارے میں دریافت کیا: اللہ کی قسم میں وہ پہلا شخص تھا، جس نے ان سے یہ سوال کیا تھا، تو وہ بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں، جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5598 | سنن ابي داود: 3680 | سنن نسائي: 5610 | سنن نسائي: 5690

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
544- ابوجویریہ جرمی بیان کرتے ہیں: میں نے سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ اس وقت خانۂ کعبہ کے ساتھ پشت لگا کر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے باذق (شراب کی مخصوص قسم) کے بارے میں دریافت کیا: اللہ کی قسم میں وہ پہلا شخص تھا، جس نے ان سے یہ سوال کیا تھا، تو وہ بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پہ باذق کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں، جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:544]
فائدہ:
باذق سے مراد وہ شراب ہے جو انگور نچوڑ کر اس کے شیرے سے بنائی جائے۔ معمولی پکانے سے نشہ آور نہیں بنتی جب اسے اچھی طرح آگ پر پکایا جاتا ہے تب نشہ آور بنتی ہے۔ شراب خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو، حرام ہے، شراب کی علت (نشہ) جس بھی چیز میں ہو وہ شراب ہے اور حرام ہے، یہاں پر ایک تنبیہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دانا عقل مند پیدا کیا ہے، کتنا بدقسمت ہے وہ انسان جو شراب وغیرہ کے ساتھ اپنے آپ کو بے ہوش کر لیتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 544 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5598 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5598. سیدنا ابو جویریہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے باذق کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ سیدنا محمد ﷺ باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہرحال جو بھی چیز نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابو جویریہ نے کہا: باذق تو حلال و طیب ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام و خبیث ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5598]
حدیث حاشیہ: بعض قدماء شاعر نے سچ کہا ہے و أشربھا و أزعمھا حراما و أرجو عفو ربي ذي امتنان یعنی میں شراب پیتا ہوں اور اسے حرام بھی جانتا ہوں مگر مجھے اپنے کی طرف سے معافی کی امید ہے کہ وہ بہت ہی احسان کرنے والا ہے۔
و یشربھا و یزعمھا حلالا و تلك علی المسمیٰ خطیئتان اور شرابی جو اسے پیئے اور حلال جانے یہ ایسے گنہگار کے حق میں دو گنا گناہ ہے۔
بہر حال حرام ہے اسے حلال جاننا کفر ہے۔
باذق بادہ کا معرب ہے وہ شراب جو انگور کا شیرہ نکال کر پکا لی جائے یعنی تھوڑا سا پکائیں کہ وہ رقیق اور صاف رہے۔
اگر اسے اتنا پکائیں کہ آدھا جل جائے تو اسے منصف کہیں گے اور اگر دو تہائی جل جائے تو اسے مثلث کہیں گے۔
اسے طلاء بھی کہتے ہیں کہ وہ گاڑھا ہو کر اس لیپ کی طرح ہو جاتا ہے جو خارش والے اونٹوں پر لگاتے ہیں۔
منصف کا پینا درست ہے اگر اس میں نشہ ہو جائے تو وہ بالاتفاق حرام ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5598 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5598 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5598. سیدنا ابو جویریہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے باذق کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ سیدنا محمد ﷺ باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہرحال جو بھی چیز نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابو جویریہ نے کہا: باذق تو حلال و طیب ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام و خبیث ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5598]
حدیث حاشیہ:
جب کسی چیز میں نشہ پیدا ہو جائے تو اس کا نام بدل دینے سے وہ حرام، حلال نہیں بن جائے گا، ہاں اگر کوئی چیز حلال و طیب ہے تو وہ آگ پر جوش دینے سے حرام نہیں ہو گی جب تک کہ اس میں نشہ پیدا نہیں ہوتا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابو جویریہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم انگوروں کو نچوڑ کر اس کا شیرہ، جو میٹھا ہوتا ہے، نوش کرتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: جب اس میں مٹھاس باقی رہے، یعنی ترش نہ ہو تو اسے پیا جا سکتا ہے۔
ایک موقوف روایت میں ہے: ’’آگ کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتی۔
‘‘ (سنن النسائي، الأشربة، حدیث: 5732)
اصل دار و مدار اس کے نشہ آور ہونے پر ہے۔
(فتح الباري: 84/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5598 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3680 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3680]
فوائد ومسائل:

کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز کا اثر جسم میں چالیس دنوں تک رہتا ہے۔


نادان بچوں کو یا جنھیں پتہ نہ ہو اسے کوئی نشہ آور چیز پلانا شدید معاشرتی اور اخلاقی جرم ہے۔
جس سے پلانے والے کی عاقبت خراب ہوجاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3680 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5690 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (بادہ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چنانچہ وہ بولے: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے (یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ (جرمی) کہتے ہیں: میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5690]
اردو حاشہ: یہ اور آئندہ روایات یہ بتانے کے لیے لائی گئی ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہر نشہ آور مشروب کو حرام سمجھتے تھے خواہ وہ خمر ہو یا کچھ اور۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5690 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5610 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جس مشروب کو زیادہ پینے سے نشہ آ جائے اس کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آ جائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
اردو حاشہ: احناف کا خیال ہے کہ خمر تو قلیل بھی حرام ہے اور کثیر بھی، مگر دوسرے نشہ آور مشروب نشے کی حد سے کم کم پیے جا سکتے ہیں۔ یہ حدیث ان کی تردید کرتی ہے۔ احناف کے نزدیک خمر کسے کہتے ہیں؟ یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5610 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔