حدیث نمبر: 538
538 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُعَجِّلُ بِهِ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﴿ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ﴾ " الْآيَةَ قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْلَمُ خَتْمَ السُّورَةِ حَتَّي يُنْزِلَ عَلَيْهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: (اس روایت میں راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں کیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یاد رکھنے کے لیے جلدی جلدی پڑھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ» ”تم اس لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو کہ تم جلدی اسے یاد کر لو، بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ختم ہونے کا علم نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 538
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح وهو مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة" برقم: 336، 337، 338، 339، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 850، 851، 852، 4241، وأبو داود فى «سننه» برقم: 788، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2415، 2416، وأبو داود فى «المراسيل» ، برقم: 36»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 788

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 788 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´«بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 788]
788۔ اردو حاشیہ:
اس مسئلہ میں کہ «بسم الله» جہراً پڑھا جائے یا سراً علامہ ابن القیم کی بات معتدل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی جہراً پڑھتے تھے اور کبھی سراً، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو سراً پڑھنا زیادہ ثابت ہے، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روزانہ پانچ اوقات میں نیز سفر و حضر میں بھی جہراً پڑھتے رہے ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین پر مخفی رہا ہو۔ اور پھر آپ کے اہل شہر خیر القرون میں بھی اس سے بےخبر رہیں۔ یہ ازحد محال بات ہے۔ چہ جائے کہ «بسم الله» کے جہراً کو ثابت کرنے کے لئے مجمل الفاظ اور کمزور احادیث کا سہارا لیا جائے۔ اس بارے میں صحیح احادیث غیر صریح اور جو صریح ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔ [ذاد المعاد فصل فى هديه صلى الله عليه وسلم فى الصلواة]
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: [نيل الاوطار و سبل السلام]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا موقف بھی «بسم الله» سری پڑھنے کا ہے۔ دیکھیے: [صفة الصلواة النبى صلي الله عليه وسلم ص 96]
اور یہی راحج ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 788 سے ماخوذ ہے۔