حدیث نمبر: 535
535 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُتَنَفَّسَ فِيهِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ برتن میں پھونک ماری جائے یا اس میں سانس لی جائے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 535
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5629، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2552، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5316، 5399، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1634، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4460، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4522، 6837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3719، 3728، 3786، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1825، 1888، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2018، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3288، 3421، 3428، 3429، 3430، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 10440، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1932، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2402، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20216، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1932، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2402»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1825 | سنن ابي داود: 3719 | سنن ابي داود: 3786 | سنن نسائي: 4453

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
535- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، برتن میں پھونک ماری جائے یا اس میں سانس لی جائے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:535]
فائدہ:
اس حدیث میں پانی پینے کے آداب میں سے ایک ادب بیان ہوا ہے کہ پانی پینے کے دوران برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے، بلکہ برتن کو منہ سے ہٹا کر پھر سانس لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 535 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1825 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» اور گندگی کھانے والے جانور کے دودھ اور مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1825]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مجثمہ: وہ جانورہے جس پر نشانہ بازی کی جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1825 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3719 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مشک کے منہ سے پینا منع ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «جلّالہ» وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3719]
فوائد ومسائل:

مشکیزے کے منہ سے یا نل کو منہ لگا کر براہ راست پینا مکروہ (تنزہیی) ہے۔
علماء نے کہا ہے۔
کہ یہ صرف اس صورت میں ہے کہ مشکیزہ لٹکا ہوا ہو تو براہ راست پینے کا جواز ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے یہ رائے بھی نقل کی ہے۔
کہ مشکیزہ لٹکا ہوا ہو اسے اتارا نہ جا سکتا ہو۔
یا برتن میسر ہی نہ ہو۔
اور ہتھیلی سے پینا بھی ممکن نہ ہو۔
تو اس صورت میں مشکیزے سے براہ ر است پینے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري،کتاب الأشربة، باب المشرب من فم السقاء) مشکیزے کے خراب ہونے کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے۔
کہ مشکیزے میں یا نل میں کوئی موذی چیز داخل ہوگئی ہو اور پینے والے کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔
اور پھر اذیت اٹھائے۔


گندگی کھانے والے جانور کا دودھ گوشت اور اس کی سواری سب منع ہیں۔
ذبح کرنا ہوتو پہلے کم از کم تین دن تک باندھ کر رکھا جائے۔
(إرواء الغلیل، روایة: 2505)

کسی مملوکہ جانور کو نشانہ مار کر قتل کرنا حرام ہے۔
الا یہ کہ وہ وحشی بن جائے۔
اور شکار کے حکم میں آجائے تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3719 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4453 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«جلّالہ» (گندگی کھانے والے جانور) کا دودھ پینے کی ممانعت۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمہ» (جو جانور باندھ کر نشانہ لگا کر مار ڈلا گیا ہو) سے، «جلالہ» (گندگی کھانے والے جانور) کے دودھ سے، اور مشک کے منہ سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4453]
اردو حاشہ: (1) عنوان کا مقصد بالکل واضح ہے کہ جس جانور کی ساری یا اکثر خوراک گندگی کھانا ہی ہے، اس جانور کا دودھ پینا ممنوع ہے۔
(2) ممانعت کی وجہ وہی ہے جو سابقہ حدیث کے فوائد و مسائل میں بیان ہو چکی ہے کہ گندگی کے اثرات، گندگی کھانے والے جانور کے دودھ میں سرایت کر جاتے ہیں۔ و اللہ أعلم۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مشکیزے کے منہ سے، منہ لگا کر پانی پینا ممنوع ہے۔ اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں اگر مشکیزے کے اندر کوئی کیڑا وغیرہ یا کوئی اور مضر چیز ہو گی تو وہ پینے والے کے منہ میں چلی جائے گی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔ ہاں مجبوری کی صورت میں پیا جا سکتا ہے۔ عام اجازت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4453 سے ماخوذ ہے۔