حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 523
523 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَي آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
محمد بن حنین بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا۔ وہ اس شخص پر حیرانگی کا اظہار کر رہے تھے، جو رمضان کا مہینہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم اسے (پہلے چاند کو) دیکھ لو تو روزے رکھنا شروع کرو، اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنا ختم کر دو، اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تیس کی تعداد مکمل کر لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
523- محمد بن حنین بیان کرتے ہیں: میں نے سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا۔ وہ اس شخص پر حیرانگی کا اظہار کررہے تھے، جو رمضان کا مہینہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتا ہے۔ سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ لو تو روزے رکھنا شروع کرو، اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنا ختم کردو، اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تیس کی تعداد مکمل کرلو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:523]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رمضان کا چاند دیکھنے سے روزہ فرض ہو جاتا ہے، اس طرح ماہ شوال کا چاند طلوع ہونے سے رمضان کے روزے مکمل ہو جاتے ہیں۔ اگر ابر آلود (بادل وغیرہ) ہوں، اور مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے شعبان کی انتیس تاریخ کو رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو پھر روزہ نہیں رکھنا چا ہیے، بلکہ تیس دن پورے کر لینے چاہئیں تاکہ روزے کی بنیاد یقین پر ہو نہ کہ شک پر، اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رمضان کا چاند دیکھنے سے روزہ فرض ہو جاتا ہے، اس طرح ماہ شوال کا چاند طلوع ہونے سے رمضان کے روزے مکمل ہو جاتے ہیں۔ اگر ابر آلود (بادل وغیرہ) ہوں، اور مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے شعبان کی انتیس تاریخ کو رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو پھر روزہ نہیں رکھنا چا ہیے، بلکہ تیس دن پورے کر لینے چاہئیں تاکہ روزے کی بنیاد یقین پر ہو نہ کہ شک پر، اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 523 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 688 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 688]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 688]
اردو حاشہ:
1؎:
’’رمضان سے پہلے‘‘ سے مراد شعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ 15 شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض روزے کے لیے اس کی قوت و توانائی برقرار رہے۔
2؎:
یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور 29 شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر 29 رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عیدالفطر منائی جائے۔
1؎:
’’رمضان سے پہلے‘‘ سے مراد شعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ 15 شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض روزے کے لیے اس کی قوت و توانائی برقرار رہے۔
2؎:
یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور 29 شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر 29 رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عیدالفطر منائی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 688 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2327 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´انتیس تاریخ کو بادل ہوں تو پورے تیس روزے رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، (جب تک کہ شوال کا) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2327]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ہی روزے رکھنے شروع نہ کر دو، ہاں اگر کسی کا کوئی معمول ہو تو رکھ سکتا ہے، اور بغیر چاند دیکھے روزے نہ رکھو، پھر روزے رکھتے جاؤ، (جب تک کہ شوال کا) چاند نہ دیکھ لو، اگر اس کے درمیان بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اس کے بعد ہی روزے رکھنا چھوڑو، اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن ابی صغیرہ، شعبہ اور حسن بن صالح نے سماک سے پہلی حدیث کے مفہوم کے ہم معنی روایت کیا ہے لیکن ان ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2327]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، لیکن بعض کے نزدیک صحیح ہے، کیونکہ یہ باتیں صحیح روایات میں بیان ہوئی ہیں۔
رمضان شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے اگر کوئی قضا یا نذر کا روزہ پورا کرنا چاہتا ہو یا اس کی عادت ہو کہ سوموار اور جمعرات کے روزے رکھتا ہو تو رکھ سکتا ہے، یہ استقبالی روزے شمار نہ ہوں گے، کیونکہ یہ اس کے دائمی اور مسلسل عمل کا حصہ ہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے، لیکن بعض کے نزدیک صحیح ہے، کیونکہ یہ باتیں صحیح روایات میں بیان ہوئی ہیں۔
رمضان شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے اگر کوئی قضا یا نذر کا روزہ پورا کرنا چاہتا ہو یا اس کی عادت ہو کہ سوموار اور جمعرات کے روزے رکھتا ہو تو رکھ سکتا ہے، یہ استقبالی روزے شمار نہ ہوں گے، کیونکہ یہ اس کے دائمی اور مسلسل عمل کا حصہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2327 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2127 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2127]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2127]
اردو حاشہ: ”تعجب ہے“ یعنی رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے پہلے مشکوک (شعبان کے تیسویں) دن کا روزہ نہیں رکھنا چاہیے کہ یہ تکلف اور تشدد ہے۔ صحیح روایات میں اس دن کا روزہ رکھنا رسول اللہﷺ کی نافرمانی بتلایا گیا ہے۔ جن اہل علم نے احتیاطاً نفل روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے شاید انہوں نے ان الفاظ کی سختی پر غور نہیں فرمایا۔ باقی رہی فرض اور نفل کی تفریق (کہ فرض منع ہے نفل جائز ہے) تو یہ بات حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے چاند دکھانے میں احتیاط نہیں فرمائی تو ہمیں خواہ مخواہ اس احتیاط کی کیا ضرورت ہے؟ رَضِینَا بِاللّٰہِ رَبًّا
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2127 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2131 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2131]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2131]
اردو حاشہ: اگرچہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن کثیر شواہد ومتابعات کی وجہ سے متن حدیث صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2131 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2132 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور (چاند) دیکھ کر (روزہ) بند کرو، (پس) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس (دن) پورے کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2132]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور (چاند) دیکھ کر (روزہ) بند کرو، (پس) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس (دن) پورے کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2132]
اردو حاشہ: اس مفہوم کی روایات کی اس قدر تکرار بعض اسنادی اختلاف ظاہر کرنے کے لیے ہے جن کا علم مذکورہ روایات کی سندوں کے گہرے جائزے سے ہوگا، البتہ اس اختلاف کا حدیث کے متن پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتا کیونکہ متن متفق علیہ ہے، بلکہ اس تکرار سے متن کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ وہ کثیر صحابہ اور بہت زیادہ راویوں سے مروی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اختلاف سے مراد ہر جگہ غلطی نہیں ہوتی بلکہ بہت سے مقامات پر اختلاف کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ حدیث ان تمام صحابہ اور تابعین وغیرہ سے آتی ہے اور یہ سب سندیں صحیح ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2132 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2176 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (رمضان) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی (پہلے سے) روزہ رکھتا رہا ہو۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2176]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (رمضان) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی (پہلے سے) روزہ رکھتا رہا ہو۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2176]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر راوی کی غلطی ہے۔ اور یہ بات درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2176 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2191 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔`
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
اردو حاشہ: (1) ”لائیے جو آپ کے پاس ہے۔“ زیادہ درست یہ ہے کہ جب انہوں نے حضرت عکرمہ کو اتنے جزم ویقین سے قسم کھاتے دیکھا تو وہ کھانا کھانے پر آمادہ ہوگئے کیونکہ انہیں یقین ہوگیا کہ آج واقعتا روزہ رکھنا درست نہیں، اس لیے کہا: لائیے کھانا۔ دوسرے معنیٰ بھی مراد ہو سکتے ہیں کہ آپ جو اس قدر پختہ اور تاکیدی قسم کھا رہے ہیں، کوئی دلیل بھی دیجئے۔ واللہ أعلم
(2) شعبان کی تیس تاریخ کو شک نہ بھی ہو، تب بھی روزہ رکھنا منع ہے۔ اسی طرح انتیس تاریخ کو بھی منع ہے کیونکہ اس طرح رمضان اور شعبان کے روزے مل جائیں گے جبکہ آپ نے منع فرمایا ہے۔ الا یہ کہ کسی شخص کو کسی مخصوص دن، مثلاً: سوموار یا جمعرات کو روزہ رکھنے کی عادت ہو اور وہ دن اس تاریخ کو آجائے جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔
(2) شعبان کی تیس تاریخ کو شک نہ بھی ہو، تب بھی روزہ رکھنا منع ہے۔ اسی طرح انتیس تاریخ کو بھی منع ہے کیونکہ اس طرح رمضان اور شعبان کے روزے مل جائیں گے جبکہ آپ نے منع فرمایا ہے۔ الا یہ کہ کسی شخص کو کسی مخصوص دن، مثلاً: سوموار یا جمعرات کو روزہ رکھنے کی عادت ہو اور وہ دن اس تاریخ کو آجائے جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2191 سے ماخوذ ہے۔