514 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو مُوسَي بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِي رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ» ؟ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ فَمَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» فَفَزِعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفِّهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ» قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا مُرْسَلًافَقِيلَ لَهُإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ وَقَالَ حَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ كُلِّهِمْسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انہوں نے بتایا: ہم مسلمان ہیں، انہوں نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں“، تو ایک عورت تیزی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے اپنے بچے کو اپنے ہودج میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔“ سفیان کہتے ہیں: ابن منکدر نامی راوی نے یہ روایت پہلے ہمیں مرسل حدیث کے طور پر سنائی تھی، تو مجھے یہ بات بتائی گئی کہ انہوں نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے تو میں ابراہیم کے پاس آیا، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے یہ بات سنائی۔ انہوں نے بتایا: میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی تھی، تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بچہ بھی حج کر سکتا ہے، اس کا ثواب اس کے والدین کو ملے گا، جب وہ بچہ جوان ہوگا، تو اگر وہ صاحب استطاعت ہوا تو اس پر حج فرض ہوگا، اور اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه: 14875 موقوف صحيح ]
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کو بھی حج و عمرے میں ساتھ لے جانا چاہیے، اگر استطاعت ہو، تاکہ وہ بچپن ہی میں شعائر اللہ کو دیکھ لیں، عورت غیر محرم اہل علم سے سوال کر سکتی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: " ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
(2) اس بات پر قریباً اجماع ہے کہ بلوغت سے پہلے کا حج فرض حج کی جگہ کفایت نہیں کرے گا بلکہ وہ بلوغت کے بعد ادا کرنا ہوگا۔ راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کے فتوے اس کی مضبوط دلیل ہیں۔
(3) اس حدیث میں مذکور جس بچے کی بابت سوال کیا گیا ہے وہ بچہ تو بہت ہی چھوٹا معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس عورت نے ہاتھ پر اٹھا لیا تھا۔ بہرحال والدہ کے لیے ثواب تو ہے ہی کیونکہ وہ اسے اٹھائے پھرتی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: " ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2648]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: " تم کون لوگ ہو؟ " ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: " آپ اللہ کے رسول ہیں "، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: " ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2649]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2650]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: " کون لوگ ہو؟ "، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1736]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روحاء مقام پر کچھ سواروں سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم کون ہو؟ " تو انہوں نے عرض کیا، ہم مسلمان ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ کا رسول ہوں " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنے بچے کو اٹھا کر لائی اور پوچھا کیا اس کا حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہاں! اس کا ثواب تجھے ملے گا۔ " (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 583]
«رَكْبًا» "را" پر زبر اور "کاف" ساکن ہے۔ «راكب» کی جمع ہے۔ قافلے کو کہتے ہیں۔
«بِالرَّوْحَاءِ» «رَوحاء» کے "را" پر فتحہ اور آخر میں مد ہے۔ مدینہ طیبہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
«فَقَالُوا: مَنْ اَنْتَ» تو انہوں نے کہا کہ آپ کون ہیں؟ قاضی عیاض نے کہا کہ آپ انہیں رات کے وقت ملے ہوں گے اور وہ آپ کو پہچان نہ سکے ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دن کو ملے ہوں مگر پہلے انہوں نے آپ کو نہ دیکھا ہو۔ [سبل السلام]
«وَلَكِ اَخِرً» اسے اٹھانے اور ساتھ لے کر حج کرنے کی بدولت اجر و ثواب تمہیں ملے گا۔
فائدہ:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نابالغ بچے کا حج درست ہے لیکن یہ فرض حج سے کفایت نہیں کرتا جیسا کہ آگے حدیث میں آ رہا ہے۔