مسند الحميدي
— سیدنا علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
باب: (جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی روایت)
51 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَامَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا حَدَّثَنَا بِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحِ، وَلَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ فَإِذَا وَقَفْنَاهُ عَلَيْهِ يُدْخِلُ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ أَبَا مَعْمَرٍ وَكَانَ لَا يَقُولُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَاسیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے ایک مرتبہ کھڑے ہوئے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل نہیں کیا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت کو ابونجیح اور لیث کے حوالے سے مجاہد کے حوالے سے ابومعمر سے نقل کرتے تھے، تو جب ہم نے اس پر مشتبہ کیا، تو انہوں نے ابن ابونجیح کی روایت میں ابومعمر کو بھی شامل کر دیا وہ لفظ ”حدثنا“ صرف اس وقت استعمال کرتے تھے، جب دونوں راویوں میں سے ہر ایک نے لفظ ”حدثنا“ استعمال کیا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
الموطأ روایۃ ابن القاسم (الاتحاف الباسم) کی حدیث 509: «مَالِكٌ عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ وَاقِدِ ابْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُوْمُ فِي الجَنَائِزِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ .»
(سیدنا) علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنازے (دیکھ کر) کھڑے ہو جاتے تھے پھر آپ (جنازہ دیکھنے کے باوجود) بیٹھے رہتے تھے۔
تحقیق: سندہ صحیح
تخریج: الموطأ (روایۃ یحییٰ 1/ 232ح 552، ک 16 ب 11 ح 33) التمہید 23/ 260، الاستذکار: 506
٭ [وأخرجه ابو داود 3175 من حديث مالك، ومسلم 962 من حديث يحييٰ بن سعيد الانصاري به]
تفقہ:
معلوم ہوا کہ جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے۔ دیکھئے حافظ ابن الجوزی (متوفی 597ھ) کی کتاب: اعلام العالم بعد رسوخہ بحقائق ناسخ الحدیث ومنسوخہ [ص 297]
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم جنازوں میں حاضر ہوتے تو کوئی آدمی بھی اجازت کے بغیر نہیں بیٹھتا تھا۔ [الموطأ 1/ 233 ح 554 وسنده صحيح]
ابو حازم سلمان الاشجعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حسن بن علی، ابو ہریرہ اور ابن الزبیر (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ پیدل چل رہا تھا، وہ جب قبر کے پاس پہنچے تو کھڑے باتیں کرتے رہے پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو بیٹھ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 309 ح 11516، وسنده صحيح]
سمعان ابو یحییٰ (قابل اعتماد راوی) سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رضی اللہ عنہ) اور ایک آدمی کو دیکھا، وہ جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 310 ح 11519، وسنده صحيح]
اصل تحریر کے لئے دیکھئے: الاتحاف الباسم الموطأ روایۃ ابن القاسم حدیث نمبر 509
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1544]
فائدہ: حضرت اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔
کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہے۔
لیکن یہ اس صورت میں ہے جب (قام)
اور (قمنا)
کے لفظ میں استمرار (ایک کام بار بار کرنے)
کا مفہوم سمجھا جائے اور یوں ترجمہ کیا جائے۔
نبی ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہوتے تھے۔
پھر نبی کریمﷺ بیٹھنے لگے تو ہم نے بھی بیٹھنا شروع کردیا۔
لیکن اس کا ایک دوسرا ترجمہ بھی ہوسکتا ہے۔
یعنی (قام)
اور (قمنا)
سے ایک دفعہ کا واقعہ سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ نبی کریمﷺ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے نبی کریمﷺ بیٹھے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔
یعنی جب تک نبی کریمﷺ کھڑے رہے ہم بھی کھڑے رہے۔
جب جنازہ گزر گیا تو نبی کریمﷺبیٹھ گئے تب ہم بھی بیٹھ گئے۔
اس صورت میں کھڑا ہونا منسوخ نہیں سمجھاجائے گا۔
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1924]
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
اس حدیث میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ پہلے حکم یہی تھا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہوئے، تو ہم لوگ بھی کھڑے ہوئے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ہم بھی بیٹھے رہے۔ (صحیح مسلم: 962) مسند أحمد: 82/1 میں ہے کہ «كـان رسـول الله أمرنا بالقيام فى الجنازة ثم جلس بعد ذلك وأمرنا بالجلوس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جناز ہ (دیکھ کر) کھڑے ہونے کا حکم فرمایا تھا، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے اور ہمیں بھی بیٹھنے کا حکم فرماتے۔ ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا ضروری نہیں ہے۔ پہلے یہ کم تھا لیکن بعد میں یہ منسوخ ہو گیا۔