حدیث نمبر: 506
506 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ وَإِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: محصب میں پڑاؤ کرنا کوئی چیز نہیں ہے، وہ صرف ایک پڑاؤ کی جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 506
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1766، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1312، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2989، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4194، 4195، والترمذي فى «جامعه» برقم: 922، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1912، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 9842، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1950، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2397»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1766 | صحيح مسلم: 1312 | سنن ترمذي: 922

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
506- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: محصب میں پڑاؤ کرنا کوئی چیز نہیں ہے، وہ صرف ایک پڑاؤ کی جگہ ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:506]
فائدہ:
وادی محصب میں ہے لیکن اس کا تعلق مواضع حج سے نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 506 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1766 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1766. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ وادی محصب میں پڑاؤ کرناکوئی سنت نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک منزل ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1766]
حدیث حاشیہ: محصب میں ٹھہرنا کوئی حج کا رکن نہیں۔
آپ ﷺ وہاں آرام کے لیے اس خیال سے کہ مدینہ کی روانگی وہاں سے آسان ہوگی ٹھہر گئے تھے، چنانچہ عصرین و مغربین آپ نے وہیں ادا کیں، اس پر بھی جب آپ ﷺ وہاں ٹھہرے تو یہ ٹھہرنا مستحب ہو گیا اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی وہاں ٹھہرا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1766 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1766 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1766. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ وادی محصب میں پڑاؤ کرناکوئی سنت نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک منزل ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1766]
حدیث حاشیہ:
(1)
وادئ محصب میں قیام کرنا سنت ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق علمائے سلف میں اختلاف ہے۔
حضرت عائشہ اور ابن عباس ؓ وہاں پڑاؤ کرنے کو مسنون نہیں سمجھتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ وہاں زوال کے بعد صرف آرام کرنے کے لیے اترے تھے۔
وہاں عصرین اور مغربین ادا فرمائی تھیں۔
اس مقام پر پڑاؤ کرنا مناسک حج میں سے نہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ وہاں پڑاؤ کرنے کو مسنون کہتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا وہاں نزول ثابت ہے اور خلفائے راشدین کا بھی اس پر عمل رہا ہے لیکن ان کے نزدیک بھی اس کا حج سے کوئی تعلق نہیں، البتہ اسے ایک الگ سنت قرار دیا جا سکتا ہے۔
(2)
ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا وادئ محصب میں پڑاؤ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دیا جبکہ مشرکین نے اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے اس مقام پر قسمیں اٹھائی تھیں، اس بنا پر وہاں اترنے کو مستحب قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ وہاں سے گزر ہو، البتہ وہاں پڑاؤ کرنے کا مناسک حج سے کوئی تعلق نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1766 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 922 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وادی محصب میں قیام کوئی چیز نہیں ۱؎، یہ تو بس ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 922]
اردو حاشہ:
1؎:
محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد آرام فرمانے کے لیے یہاں اقامت کی، ظہر و عصر اور مغرب اورعشاء پڑھی اور چودھویں رات گزاری، چونکہ آپ نے یہاں نزول فرمایا تھا اس لیے آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا، امام مالک امام شافعی اور جمہور اہل علم نے رسول اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 922 سے ماخوذ ہے۔