مسند الحميدي
— وہ روایات جن میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، یا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے ہوئے دیکھا۔
باب: حدیث نمبر 482
482 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ صَلَّي قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَي أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ» وَمَعَهُ بِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ هَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَأنَّهُ يَتَلَقَّي بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ، وَالْخِرْصَ، وَالشَّيْءَعطاء بن رباح بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر خطبہ دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز خواتین تک نہیں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، جنہوں نے اپنے کپڑے کو اس طرح پھیلایا ہوا تھا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اپنے کپڑے کو پھیلایا ہوا تھا، تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں، بالیاں اور دیگر چیزیں اس میں ڈالنا شروع کیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھنی چاہیے، کچھ لوگ نماز سے پہلے وعظ و نصیحت شروع کر دیتے ہیں، یہ سنت کی مخالفت ہے، امام عورتوں کو الگ خطبہ دے سکتا ہے لیکن آج کل تو اسپیکر کا انتظام ہوتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا موقع بن جائے تو امام عورتوں کو خطبہ دے سکتا ہے۔ ایسے امام کے دو خطبے ہوں گے۔ عید کے دن صدقہ و خیرات لینا درست ہے، اور زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا چاہیے، امام عورتوں کو وعظ کرتے ہوئے اپنے شاگرد کو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
1۔
اس حدیث میں عید گاہ کاذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جہاں آج کثیر بن صلت کا مکان ہے۔
وہ گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بنایا گیا تھا اور شہرت کیوجہ سے اس کی طرف منسوب ہوگیا۔
2۔
اس حدیث میں دور صحابہ کے چھوٹے بچوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست علم حاصل کرتے تھے۔
یہ مرتبہ دوسرے شہر میں رہنے والوں کو نصیب نہیں تھا۔
لیکن اس حدیث سے اجماع اہل مدینہ کی حجیت ثابت کرنا محل نظر ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اختلاف کے وقت اہل مدینہ کے عمل اور اجماع کو وزنی قراردیا جائے۔
واللہ أعلم۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر عورتوں کے مجمع کی طرف گئے اور انہیں سورۃ الممتحنہ کی آیت: 12 پڑھ کر سنائی، پھر آپ نے فرمایا: ’’تم اس عہدوپیمان پر قائم ہو؟‘‘ ایک عورت نے تمام کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! ہاں، ہم اس پر قائم ہیں۔
پھر آپ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4895) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں بالیاں اور کانٹے وغیرہ کانوں میں پہن سکتی ہیں۔
اس حدیث سے بعض اہل علم نے عورتوں کے کانوں میں زیورات پہننے کے لیے سوراخ کرنا بھی ثابت کیا ہے لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے محل نظر قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 408/10)
(1)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے نماز عید پڑھنے کے بعد عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
آپ کا انہیں وعظ کرنا خطبۂ عید کا نتیجہ تھا جیسا کہ حدیث جابر ؓ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے نماز پڑھی، پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔
جب رسول اللہ ﷺ خطبے سے فارغ ہوئے تو اتر کر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 961) (2)
یہ بھی ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو محض "فائدة جدیدة" کے طور پر ذکر کیا ہو، کیونکہ اس حدیث کا عیدین کی نماز سے گہرا تعلق ہے۔
(فتح الباري: 585/2)
«. . . قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ . . .»
”. . . انہوں نے فرمایا کہ میں نے عیدالفطر یا عید الاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر عورتوں کی طرف آئے اور انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کے لیے حکم فرمایا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ: 975]
باب اور حدیث میں مناسبت:
باب میں بچوں کا عیدگاہ جانے پر اشارہ کیا گیا ہے اور حدیث جو پیش کی گئی ہے اس میں عورتوں کو نصیحت کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے یعنی حدیث میں بچوں کے عیدگاہ جانے کے کوئی الفاظ نہیں ہیں لیکن اگر تدبر کیا جائے تو باب اور حدیث میں مناسبت کچھ اس طرح سے ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت جوان نہیں ہوئے تھے وہ نابالغ تھے اور وہ بھی عیدگاہ میں موجود تھے۔ لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔ اس کے علاوہ اگر غور کیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وصیت فرمائی، اس حدیث کو ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے اور باب کے ساتھ مناسبت بھی ہے کہ لازمی طور پر عورتیں جن کے چھوٹے بچے ہوں گے وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائی ہوں گی۔ کیوں کہ حدیث میں واضح ہے کہ عید کی نماز میں اگر ایک عورت کے پاس چادر نہیں ہے تو وہ اپنی بہن کے ساتھ چادر میں پردہ کر کے عیدگاہ آئے اور نماز و دعا میں شریک ہو حتی کہ حائضہ عورت بھی مصلی کی جگہ سے دور رہے اور وہ بھی دعا میں شرکت کے لیے عیدگاہ پہنچے جب ایسے حالات میں عورتوں کو عیدگاہ پر آنے کی تلقین کی گئی ہے تو ان کے ساتھ ان کے بچے بھی آ سکتے ہیں، یہیں سے ترجمۃ الباب میں مناسبت ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لكن جري المصنف على عادته فى الاشارة إلى ما ورد فى بعض طرق . . .» [فتح الباري، ج2، ص590]
لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے مطابق بعض طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آئندہ باب میں مذکور ہیں کہ «ولو لا مكاني من الصغر ما شهدته» ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر باوجود کم عمری کے میری قدر و منزلت آپ کے نزدیک نہ ہوتی تو میں نہیں جا سکتا تھا (عیدگاہ میں)۔“
اس واضح الفاظ کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما چھوٹی عمر میں عیدگاہ گئے۔ لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
(قلت) اگر غور کیا جائے خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جمعہ کی نماز کے لیے آتیں اور ان کے ساتھ بچے بھی ہوتے جن کے رونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قرأت میں تخفیف فرمایا کرتے تھے۔ جب عیدگاہ میں خواتین کو تاکید کے ساتھ آنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تو لازماً ان کے بچے بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اگر عید میں بچوں کا آنا ممنوع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واضح بچوں کے آنے پر پاپندی لگاتے۔ لہٰذا جب انکار ثابت نہیں تو بچوں کے آنے کا مسئلہ مسجد و عیدگاہ میں اپنی جگہ مسلّم رہا۔
اس حدیث میں بچوں کے لیے نماز میں شرکت کا ذکر نہیں ہے لیکن امام بخاری ؒ نے اپنی عادت کے مطابق حدیث مذکور کے دوسرے طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
اس روایت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر چھوٹی عمر کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں اس عظیم اجتماع میں کیونکر شرکت کر سکتا تھا۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 977)
نیز خارجی قرائن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عید الفطر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ گئے تو اس وقت آپ کا بچپن ہی تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر صرف 13 برس تھی۔
(عمدةالقاري: 195/5)
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
(1)
عنوان کا مطلب یہ ہے کہ جو بچے ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچے وہ عورتوں کے پاس جا سکتے ہیں اور انھیں دیکھ سکتے ہیں، ان سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عورتوں کو اپنے زیورات کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا، یعنی عورتوں نے اپنے ہار اور اپنی بالیاں اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں۔
مقصد یہ ہے کہ اس موقع پر جو کچھ عورتوں سے رونما ہوا اس کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مشاہدہ کیا کیونکہ وہ کمسن تھے اور وہ ان سے پردہ نہ کرتی تھیں۔
(2)
ممکن ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے انھوں نے پردہ کیا ہو۔
زیورات ان کے حوالے کرنے کا مطلب بے پردہ ہونا نہیں ہے۔
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مشاہدے سے عنوان ثابت کیا ہے۔
والله اعلم
ابن عباس ؓ نے لوگوں کو عید گاہ کا مقام بتانے کے لیے اس کا پتہ دیا۔
(1)
اگر عید گاہ کی چار دیواری وغیرہ نہ ہو تو اس کی شناخت کے لیے کسی قسم کی علامت مقرر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اگرچہ جو ’’نشان‘‘ کثیر بن صلت کی حویلی کے پاس تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نہ تھا لیکن امام بخاری ؒ نے حدیث کے ظاہری الفاظ سے عنوان کو ثابت کیا ہے۔
آپ نے اس تحقیق کو ضروری خیال نہیں کیا کہ وہ نشان عہد نبوی میں موجود تھا یا نہیں۔
(2)
واضح رہے کہ کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ایک اونچا سا نشان تھا جس سے اس جگہ کی پہچان ہوتی تھی اور ان کا گھر عیدگاہ کے قبلے کی طرف تھا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کے کافی عرصہ بعد تعمیر کیا تھا۔
اس دور میں اس کی کافی شہرت ہو چکی تھی، اس لیے عیدگاہ کا تعارف ان کے گھر کے پاس ہونے سے کرایا جاتا تھا۔
اس کا نام قلیل بن صلت تھا، حضرت عمر ؓ نے اس کا نام کثیر رکھا۔
اس نے مروان بن حکم کے لیے کچھ اینٹوں اور مٹی سے وہاں ایک منبر بھی تعمیر کیا تھا۔
(فتح الباري: 579/2)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ چونکہ مجاہد قسم کے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے شرح تراجم بخاری میں اپنے مزاج کے مطابق اس حدیث کی تشریح کی ہے، فرماتے ہیں: صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عیدگاہ کے اندر کوئی جھنڈا وغیرہ نصب نہیں تھا، اس لیے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ہمارے زمانے میں جھنڈا گاڑا جاتا ہے، وہاں رسول اللہ ﷺ نماز عید پڑھا کرتے تھے۔
چونکہ ظاہر حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں وہاں جھنڈا نصب ہوتا تھا، اس لیے مصنف (امام بخاری رحمہ اللہ)
نے انہی الفاظ سے عنوان قائم کیا ہے۔
میرے نزدیک واضح بات یہ ہے کہ مصنف عیدگاہ میں جھنڈا نصب کرنے کا جواز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
فِيهِ وَفِي بَقِيَّةِ أَحَادِيثِ الْبَابِ دَلِيلٌ عَلَى كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا، وَإِلَى ذَلِكَ ذَهَبَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ ابْنُ قَدَامَةَ: وَهُوَ مَذْهَبُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ. (نیل الأوطار)
یعنی اس حدیث اور اس بارے میں دیگر احادیث سے ثابت ہوا کہ عید کی نماز کے پہلے اور بعد نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے۔
امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مسلک ہے اور بقول ابن قدامہ حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت علی وحضرت عبد اللہ بن مسعود اور بہت سے اکابر صحابہ وتابعین کا بھی یہی مسلک ہے۔
امام زہری ؒ فرماتے ہیں: لم أسمع أحدا من علماء نا یذکر أن أحدا من سلف ھذہ الأمة کان یصلي قبل تلك الصلوة ولا بعدھا۔
(نیل الأوطار)
یعنی اپنے زمانہ کے علماءمیں میں نے کسی عالم سے نہیں سنا کہ سلف امت میں سے کوئی بھی عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز پڑھتا ہو۔
ہاں عید کی نماز پڑھ کر اور واپس گھر آکر گھر میں دو رکعت نفل پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ ابن ماجہ میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔
وہ فرماتے ہیں: عن النبي صلی اللہ علیه وسلم أنه کان لا یصلي قبل العید شیئا فإذا رجع إلی منزله صلی رکعتین رواہ ابن ماجة وأحمد بمعناہ۔
یعنی آنحضرت ﷺ نے عید سے پہلے کوئی نماز نفل نہیں پڑھی جب آپ اپنے گھر واپس ہوئے تو آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
اس کو ابن ماجہ اور احمد نے بھی اس کے قریب قریب روایت کیا ہے۔
علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَخْرَجَهُ أَيْضًا الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ، وَحَسَّنَهُ الْحَافِظُ فِي الْفَتْحِ، وَفِي إسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ مَقَالٌ. وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الخز (نیل الأوطار)
یعنی ابو سعید والی حدیث کو حاکم نے بھی روایت کیا ہے اور اس کو صحیح بتلایا ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی تحسین کی ہے اور اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل ایک راوی ہے جن کے متعلق کچھ کہا گیا ہے اور اس مسئلہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی بھی ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کی مانند ہے۔
خلاصہ یہ کہ عیدگاہ میں صرف نماز عید اورخطبہ نیز دعا کرنا مسنون ہے عیدگاہ مزید نفل نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ہے۔
یہ تو وہ مقام ہے جس کی حاضری ہی اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ وہ اپنے بندوں اور بندیوں کو میدان عید گاہ میں دیکھ کر اس قدر خوش ہوتا ہے کہ جملہ حالات جاننے کے باوجود اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ میرے بندے اور بندیاں آج یہاں کیوں جمع ہوئے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ تیرے مزدور ہیں جنہوں نے رمضان میں تیرا فرض ادا کیا ہے، تیرے رضا کے لیے روزے رکھے ہیں اور اب میدان میں تجھ سے مزدوری مانگنے آئے ہیں۔
اللہ فرماتا ہے کہ اے فرشتو!گواہ رہو میں نے ان کو بخش دیا اور ان کے روزوں کو قبول کیا اور ان کی دعاؤں کو بھی شرف قبولیت تا قیامت عطا کیا۔
پھر اللہ کی طرف سے ندا ہوتی ہے کہ میرے بندو! جاؤ اس حال میں کہ تم بخش دیئے گئے ہو۔
خلاصہ یہ کہ عیدگاہ میں بجزدوگانہ عید کے کوئی نماز نفل نہ پڑھی جائے یہی اسوہ حسنہ ہے اور اسی میں اجروثواب ہے۔
واللہ أعلم وعلمه أتم۔
(1)
عیدگاہ میں نماز عید سے پہلے اور نماز عید کے بعد نوافل پڑھنے مکروہ ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے عیدگاہ میں نوافل پڑھنا ثابت نہیں، البتہ گھر آ کر وہ نفل پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت ابو سعید ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز عید سے پہلے نوافل نہیں پڑھتے تھے، جب گھر واپس آ جاتے تو دو رکعت ادا کرتے۔
(سنن ابن ماجة، إقامةالصلوات، حدیث: 1293)
حاصل کلام یہ ہے کہ نماز عید سے پہلے اور نماز عید کے بعد اس کی کوئی سنتیں ثابت نہیں ہیں۔
(فتح الباري: 614/2) (2)
عیدگاہ میں صرف تین کام مشروع ہیں: ٭ نماز عید ٭ خطبۂ عید ٭ دعائے خیر۔
اسوۂ رسول ﷺ یہی ہے اور اس پر عمل کرنے میں اجروثواب کی امید کی جا سکتی ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ کا یہ طرز استدلال ہے کہ وہ عمومات اور اطلاقات سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے صدقے میں ایسے زیورات پیش کیے جو سونے اور چاندی کے علاوہ مونگوں سے تیار شدہ خشبوئی ہار بھی تھے۔
جن میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ زکاۃ میں ایسی اشیاء دی جا سکتی ہیں جو سونے چاندی سے تیار شدہ نہ ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے عید کے بعد خواتین اسلام کو فرض زکاۃ و صدقے کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ یہ ایک نفلی خیرات تھی جسے انہوں نے حسب توفیق ادا کر دیا، البتہ امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عام صدقے کا حکم دیا تھا جو اپنے عموم کے اعتبار سے فرض اور نفل دونوں اقسام کو شامل تھا، اس لیے فرض زکاۃ میں بھی قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔
ہمارے نزدیک صارفین کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
اس مجبوری کے پیش نظر زکاۃ میں کپڑے، سامان یا قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
اس سے صدقہ اور خیرات کی اہمیت پر بھی اشارہ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ صدقہ اللہ پاک کے غضب اور غصہ کو بجھا دیتا ہے۔
قرآن پاک میں جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ترغیبات موجود ہیں۔
فی سبیل اللہ کا مفہوم بہت عام ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے وعظ و نصیحت کے ذریعے سے صدقہ و خیرات کرنے کی رغبت دلائی اور انہیں اس پر آمادہ کیا، پھر انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
(2)
اس سے سفارش کرنے کا مفہوم بھی معلوم ہوتا ہے۔
(3)
اس حدیث میں صدقہ و خیرات کی اہمیت کا اشارہ بھی موجود ہے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق ترغیبات موجود ہیں۔
ترغیب اور سفارش سے محتاج کے دل کو تسلی ہو جاتی ہے، نیز سفارش ہمیشہ اچھے کام میں ہوتی ہے اور بعض اوقات ترغیب میں سفارش کا پہلو نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 378/3)
اس لیے عیدین کی نماز محلہ، یا گاؤں یا اگر ممکن ہو تو قصبہ سے باہر پڑھی جائے اور بڑے بڑے شہروں میں اب باہر نکلنا ممکن نہیں ہے۔
اس لیے کسی پارک سکول یا کالج وغیرہ میں پڑھی جائے۔
(اورسخاب یہ ہار تھا جو خوشبو وغیرہ سے بنایا جاتا تھا)
کیا نمازِ عید کے بعد ایک دوسرے کو «تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ» کہنا ثابت ہے؟
………… الجواب …………
اس بارے میں دو مرفوع روایتیں مروی ہیں: 1- سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت
(الکامل لابن عدی ج 6 ص 2274، دوسرا نسخہ 7/ 524 وقال: ’’ھذا منکر …‘‘ المجروحین لابن حبان 2/ 301، دوسرا نسخہ 2/ 319، السنن الکبریٰ للبیہقی 3/ 319، العلل المتناہیہ لابن الجوزی 1/ 476 ح 811 وقال: ’’ھذا حدیث لایصح …‘‘ التدوین فی اخبار قزوین 1/ 342، ابوبکر الازدی الموصلی فی حدیثہ ق 3/2 بحوالہ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ و الموضوعہ للالبانی 12/ 385۔386 ح 5666)
یہ روایت محمد بن ابراہیم بن العلاء الشامی کی وجہ سے موضوع ہے۔
محمد بن ابراہیم: مذکور کے بارے میں امام دارقطنی نے فرمایا: ’’ کذاب‘‘ (سوالات البرقانی للدارقطنی: 423)
حافظ ابن حبان نے کہا: و ہ شامیوں پر حدیث گھڑتا تھا۔ (المجروحین 2/ 301، دوسرا نسخہ 2/ 319)
صاحبِ مستدرک حافظ حاکم نے کہا: اس نے ولید بن مسلم اور سوید بن عبدالعزیز سے موضوع حدیثیں بیان کیں۔ (المدخل الی الصحیح ص 208 ت 191)
2- سیدنا عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت
(السنن الکبریٰ للبیہقی 3/ 319، 320، امالی ابن شمعون: 277، المجروحین لابن حبان 2/ 149، دوسرا نسخہ 2/ 133، العلل المتناہیہ 2/ 57۔58 ح 900 وقال: ’’ھذا حدیث لیس بصحیح‘‘ تاریخ دمشق لابن عساکر 36/ 69)
اس کے راوی عبدالخالق بن زید بن واقد کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: ’’منکر الحدیث‘‘ (کتاب الضعفاء للبخاری بتحقیقی: 244)
امام بخاری نے فرمایا: میں جسے منکر الحدیث کہوں تو اُس سے روایت بیان کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ (التاریخ الاوسط 2/ 107، دوسرا نسخہ: ہامش التاریخ الاوسط 3/ 582)
معلوم ہوا کہ یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ مکحول اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان واسطہ نہ ہونے کی وجہ سے منقطع بھی ہے۔
حافظ ابن حجر نے اس روایت کو سند کے لحاظ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری 2/ 446 تحت ح 952)
ان مردود روایات کے بعد اب بعض آثار کی تحقیق درج ذیل ہے: 1- طحاوی نے کہا: ’’وَحدثنَا یحیی بن عُثْمَان قَالَ حَدثنَا نعیم قَالَ حَدثنَا مُحَمَّد بن حَرْب عَن مُحَمَّد بن زِیَاد الْأَلْہَانِيْ قَالَ کُنَّا نأتيْ أَبَا أُمَامَۃ وواثلۃ بن الْأَسْقَع فِی الْفطر والأضحی ونقول لَہما قبل اللہ منا ومنکم فَیَقُولَانِ ومنکم ومنکم‘‘
محمد بن زیاد الالہانی (ابو سفیان الحمصی: ثقہ) سے روایت ہے کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں ابو امامہ اور واثلہ بن اسقع (رضی اللہ عنہما) کے پاس جاتے تو کہتے: ’’تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘ اللہ ہمارے اور تمھارے (اعمال) قبول فرمائے، پھر وہ دونوں جواب دیتے: اور تمھارے بھی، اور تمھارے بھی۔
(مختصر اختلاف الفقہاء للطحاوی / اختصار الجصاص 4/ 385 وسندہ حسن)
اس سند میں یحییٰ بن عثمان بن صالح اور نعیم بن حماد دونوں جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے حسن الحدیث تھے اور باقی سند صحیح ہے۔
اس روایت کو بھی ابن الترکمانی نے بغیر کسی حوالے کے نقل کر کے ’’حدیث جید‘‘ کہا اور احمد بن حنبل سے اس کی سند کا جید ہونا نقل کیا۔ دیکھئے الجوہر النقی (3/ 319۔320)
2- قاضی حسین بن اسماعیل المحاملی نے کہا: ’’حدثنا المھنی بن یحیی قال: حدثنا مبشر بن إسماعیل الحلبی عن إسماعیل بن عیاش عن صفوان بن عمرو عن عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر عن أبیہ قال: کان أصحاب النبي ﷺ إذا التقوا یوم العید یقول بعضھم لبعض: تقبل اللہ منا و منک‘‘
جبیر بن نفیر (رحمہ اللہ / تابعی) سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ کے صحابہ عید کے دن ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو تقبل اللہ منا و منک کہتے تھے۔
(الجزء الثانی من کتاب صلوٰۃ العیدین مخطوط مصور ص 22ب وسندہ حسن)
اس روایت کی سند حسن ہے اور حافظ ابن حجر نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری 2/ 446 تحت ح 952)
3- صفوان بن عمرو السکسکی (ثقہ) سے روایت ہے کہ: میں نے عبداللہ بن بسر المازنی (رضی اللہ عنہ) خالد بن معدان (رحمہ اللہ) راشد بن سعد (رحمہ اللہ) عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر (رحمہ اللہ) اور عبدالرحمٰن بن عائذ (رحمہ اللہ) وغیرہم شیوخ کو دیکھا وہ عید میں ایک دوسرے کو تقبل اللہ منا و منک کہتے تھے۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر 26/ 106، ترجمہ: صفوان بن عمرو، وسندہ حسن)
4- علی بن ثابت الجزری رحمہ اللہ (صدوق حسن الحدیث) نے کہا: میں نے (امام) مالک بن انس (رحمہ اللہ) سے عید کے دن لوگوں کے ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ہمارے ہاں (مدینے میں) اسی پر عمل جاری ہے، ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
(کتاب الثقات لابن حبان ج 9 ص 90 وسندہ حسن)
5- امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ: مجھے عید کے دن یونس بن عبید ملے تو کہا: ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘۔
(کتاب الدعاء للطبرانی ج 2 ص 1234 ح 929 وسندہ حسن)
اس روایت کے راوی حسن بن علی المعمری اُن روایات میں صدوق حسن الحدیث تھے، جن میں اُن پر انکار نہیں کیا گیا تھا اور اس روایت میں بھی اُن پر انکار ثابت نہیں ہے۔ نیز دیکھئے لسان المیزان بحاشیتی (ج 2 ص 414۔415)
6- طحاوی نے اپنے استاذوں اور معاصرین بکار بن قتیبہ، امام مزنی، یونس بن عبدالاعلیٰ اور ابو جعفر بن ابی عمران کے بارے میں کہا کہ جب انھیں عید کی مبارکباد دی جاتی تو وہ اسی طرح جواب دیتے تھے۔ (مختصر اختلاف العلماء ج 4 ص 385)
ان آثار سے معلوم ہوا کہ عید کے دن ایک دوسرے کو ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا (اور مبارکباد دینا) جائز ہے۔
………… اصل مضمون …………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 131 تا 134) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1147]
یہ ر وایت معناًً صحیح ہے۔ اسی لئے شیخ البانی رحمہ الله نے اس کی تصیح کی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1159]
عید کے روز عیدگاہ میں کوئی نفل نہیں نہ عید سے پہلے نہ بعد۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی، اور نہ ہی ان کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1588]
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، تو آپ نے (وہاں) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے (اور اپنا زیور اتار اتار کر) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1587]
➋ ’’نشان“ سوال و جواب کے وقت یہ جگہ مصلیٰ نہ رہی تھی بلکہ وہاں حضرت کثیر بن صلت تابعی کا گھر بن چکا تھا، البتہ بطور یادگار وہاں نشان تھا۔ آپ کے دور میں وہاں کھلا میدان تھا جہاں عیدوجنازہ وغیرہ پڑھے جاتے تھے۔
➌ عورتوں سے الگ خطاب کے سلسلے میں دیکھیے، حدیث نمبر: 1576کا فائدہ نمبر2۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1274]
فائده:
عید کی نماز بلا اذان واقامت پڑھنا ضروری ہے دوسری نمازوں پر قیا س کرکے اس کے لئے اذان واقامت کا اہتما م کرنا جائز نہیں کیونکہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کرنا ممکن تھا اور اس کے اسباب بھی موجود تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا۔
تو بعد کے زمانے میں وہ کام کرنا بدعت ہوگا۔
اگرچہ بظاہر وہ نیکی کا کام ہو
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1291]
فائده:
جس طرح فرض نماز سے پہلے اور بعد میں نفل نمازیں ہیں۔
جنھیں سنت مؤکدہ یاغیر مؤکدہ کہا جاتا ہے۔
نماز عید کے ساتھ اس قسم کی کوئی نماز مسنون نہیں۔
اس موقع پر ایسی کوئی نماز نہ پڑھنا ہی سنت ہے۔
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو (بھی) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1273]
فوائد و مسائل:
(1)
گواہی کا مطلب یہ ہے کہ انھیں یہ سب کچھ اچھی طرح یاد ہے اور وہ پورے وثوق سے بیان کر رہے ہیں۔
جس طرح گواہ وہی بات کہتا ہے۔
جو اسے خوب اچھی طرح یاد ہو۔
اور اس میں اسے کوئی شک نہ ہو۔
(2)
عید الفطر اورعید الاضحیٰ میں پہلے نماز پھر خطبہ ہوتا ہے۔
جب کہ جمعے میں اس کے برعکس ہے۔
(3)
اگر کسی مقام پر لاؤڈ سپیکر کا بندوبست نہ ہوسکے۔
اور امام ضرورت محسوس کرے تو عورتوں کو الگ سے وعظ ونصیحت کی جا سکتی ہے۔
(5)
عورتیں اپنے ذاتی مال میں سے خاوند کی اجازت کے بغیر بھی صدقہ کرسکتی ہیں۔
اور خاوند کے مال میں سے اس کی اجازت سے صدقہ کرسکتی ہیں۔
خواہ اس نے صراحت سے اجازت دے رکھی ہو یا زیادہ گمان یہ ہو کہ خاوند اس صدقے سے ناراض نہیں ہوگا۔
یہ بھی اجازت ہی کے حکم میں ہے۔
(6)
بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ اس طرح کیے ہوئے تھے۔
راوی نے اشارہ کرکے بتایا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں کپڑا تھا۔
جوانہوں نے پھیلا رکھا تھا۔
تاکہ اس میں نقدی یا دوسری چیزیں ڈالی جا سکیں۔
(7)
مرد کسی ضرورت کے تحت عورتوں کے اجتماع میں جا سکتا ہے۔
بشرط یہ کہ کوئی غلط فہمی پید ا ہونے کا یا نامناسب نتائج نکلنے کا خدشہ نہ ہو۔
(8)
عورتیں عید کے موقع پر زیور پہن سکتی ہیں۔
(9(عورتوں کا انگوٹھیاں اور بالیاں پہننا جائز ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز دو ہی رکعتیں ادا فرمائیں نہ پہلے کچھ پڑھا اور نہ بعد میں کوئی نماز پڑھی۔
اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 391»
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الخطبة بعد العيد، حديث:964، ومسلم، صلاة العيدين، باب ترك الصلاة قبل العيد وبعدها في المصلي، حديث:884، وأبوداود، صلاة الاستسقاء، حديث:1159، والترمذي، الجمعة، حديث:537، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1588، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1291، وأحمد:1 /280، 340، 355.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے عید گاہ میں سوائے دو رکعت نماز عید کے اور کوئی نماز پہلے یا بعد میں پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں‘ البتہ جب واپس گھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید بغیر اذان و اقامت ادا فرمائی۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 392»
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ترك الأذان في العيد، حديث:1147. ابن جريج مدلس وعنعن، وأصله في البخاري، العيدين، حديث:959.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس کی اصل بخاری میں ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک قابل عمل اور قابل حجت ہے‘ نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت سے ثابت ہوا کہ نماز عید بغیر اذان و اقامت کے ادا کی جائے گی بلکہ عیدین کے لیے اذان و اقامت کو بدعت کہا گیا ہے۔
اذان اور اقامت کے قائم مقام کوئی دوسری صورت بھی غیر مسنون ہے۔