حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 461
461 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: «لَا تَخْتَلِفُوا فَتْخَتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَلْيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع ہونے سے پہلے ہمارے کندھے سیدھے کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرو (یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو) ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آ جائے گا اور تم میں سے سمجھدار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں، پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہیں پھر وہ لوگ ہوں جو ان کے قریب کے مرتبے کے ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 674 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟`
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "چاہیئے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 674]
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "چاہیئے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 674]
674۔ اردو حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اہل و علم و فضل کو اپنے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بغور مشاہدہ کر لیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔ چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہے تاکہ یہ لوگ امام کو اس کی خطا و سہو پر متنبہ کر سکیں اور اگر ضرورت پیش آئے تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا سکے . . . . . اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم و فضل کر بروقت حاضر ہو کر امام کے قریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملاً ان کا اہل علم و فضل ہونا ثابت ہو سکے، اگر یہ صف اول سے پیچھے رہتے ہیں تو ان کا "اہل علم وفضل" ہونا محل نظر ہو گا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اہل و علم و فضل کو اپنے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بغور مشاہدہ کر لیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔ چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہے تاکہ یہ لوگ امام کو اس کی خطا و سہو پر متنبہ کر سکیں اور اگر ضرورت پیش آئے تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا سکے . . . . . اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم و فضل کر بروقت حاضر ہو کر امام کے قریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملاً ان کا اہل علم و فضل ہونا ثابت ہو سکے، اگر یہ صف اول سے پیچھے رہتے ہیں تو ان کا "اہل علم وفضل" ہونا محل نظر ہو گا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 674 سے ماخوذ ہے۔