457 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ: ثُمَّ لَقْيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ»سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کرے، تو یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ عبدالرحمٰن بن یزید نامی راوی کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات طواف کے دوران سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کر لے، تو یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ان احادیث کے بیان سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمروانصاری ؓ بدری صحابی ہیں لیکن غزوہ بدر میں شرکت کرنے کے متعلق کچھ اختلاف ہے۔
اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ بدر میں مقیم ہونے کی بنا پر بدری ہیں بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن صحیح موقف یہی ہے کہ وہ بدر کہ جنگ میں شریک ہونے کی بنا پربدری ہیں، چنانچہ امام بخاری ؒ کی پیش کردہ دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی نیز اثبات کی نفی پر ترجیح ہوتی ہے۔
اس قاعدے کی بنا پر ان کی غزوہ بدر میں شرکت یقینی ہے۔
2۔
واضح رہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ؓ کی دختر ام بشر پہلے سعید بن زید کے نکاح میں تھیں بعد میں انھوں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے نکاح کر لیا تو ان کے بطن سے حضرت زید بن حسن ؓ پیدا ہوئے۔
اس اعتبار سے ابو مسعود انصاری ؓ حضرت زید بن حسن کے نانا ہیں، جیسا کہ روایت میں صراحت ہے۔
3۔
رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے سے اس رات کے مصائب سے پناہ مل جاتی ہے یا دخول جنت کے لیے وہ کافی ہو جاتی ہیں۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سورۃ البقرہ کہا ہے، لہذا اس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔
2۔
حجاج بن یوسف کا بھی یہی موقف تھا کہ سورۃ البقرہ وغیرہ نہیں کہنا چاہیے، چنانچہ اس نے منیٰ میں ایک مرتبہ خطبہ دیا تو دوران خطبہ میں یہی انداز اختیار کیا۔
حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنا تو انھوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کر کے اس اسلوب کی تردید کی۔
اس میں "سورہ بقرہ" ہی استعمال کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1750)
اس امر کی متعدد علماء نے صراحت کی ہے کہ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کہنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ بعض اہل اسلام سے اس کی کراہت منقول ہے۔
(فتح الباري: 110/9)
کا مقصد ہے وہ رات کے قیام سے کفایت کریں گی۔
شیطان کے شرو فساد سے اس کی حفاظت کریں گی، اور ہر قسم کی آفتوں اور مصائب سے تحفظ فراہم کریں گی، ان کا اجرو ثواب انسان کے لیے کافی ہو گا۔
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2881]
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔" [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1397]
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی " ۱؎۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1368]
فائدہ: کافی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس کو تہجد کا وقت نہ ملا۔
وہ کم از کم یہ دو آیتیں ہی تلاوت کرلے۔
تو اسے اللہ کی وہ رحمت حاصل ہوجائےگی۔
جوتہجد پڑھنے والے کوحاصل ہوتی ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ پریشانیوں اور آفات سے بچاؤ کےلئے کافی ہوں گی۔