حدیث نمبر: 448
448 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ هَذَا رَجُلٌ يُبَلِّغُ الْأَمِيرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ» قَالَ سُفْيَانُ الْقَتَّاتُ النَّمَّامُ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا، تو سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: یہ وہ شخص ہے، جو حکمرانوں تک لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے۔ (یعنی ان کی چغلی کرتا ہے) تو سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ سفیان کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) ”القتات“ سے مراد چغل خور ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 448
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6056 | صحيح مسلم: 105 | سنن ترمذي: 2026 | سنن ابي داود: 4871 | معجم صغير للطبراني: 697 | بلوغ المرام: 1301

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6056 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´چغل خوری بہت بڑا گناہ ہے`
«. . . سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ: 6056]
لغوی توضیح:
«قَتَّاتٌ» باب «قَتَّ يَقُتُّ» (بروزن نصر) سے ماخوذ ہے۔ معنی ہے چغل خور۔
فہم الحدیث:
معلوم ہوا کہ چغل خوری بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے قریب سے گزرے تو فرمایا کہ انہیں عذاب دیا جا رہا ہے اور ان میں سے ایک کو چغل خوری کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔ [أخرجه البخاري: 218، أخرجه مسلم: 292]
امام منذری رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ امت کا اجماع ہے کہ چغلی حرام اور اللہ کے ہاں کبیرہ گناہ ہے۔ [كما فى توضيح الأحكام 452/7]
یہاں یہ یاد رہے کہ جنت میں داخل نہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ چغل خور ابتدائی طور پر جنت میں داخل نہیں ہو گا، تاہم بعد میں اپنے گناہ کی سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو جائے گا۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6056 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6056. حضرت ہمام سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ ؓ کے پاس موجود تھے کہ انہیں ایک شخص کے متعلق کہا گیا وہ یہاں کی باتیں حضرت عثمان بن عفان ؓ کو پہچاتا ہے حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6056]
حدیث حاشیہ: وہ شخص جھوٹی باتیں حضرت عثمان تک پہنچایا کرتا تھا۔
اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ان کو سنائی قاضی عیاض نے کہا کہ قتات اور نمام کا ایک ہی معنی ہے بعض نے فرق کیا کہ نمام تو وہ ہے کہ جو قضیہ کے وقت موجود ہو پھر جان کر دوسروں کے سامنے اس کی چغلی کرے اور قتات وہ ہے جو بغیر دیکھے محض سن کر چغل خوری کرے، بہر حال قتات اور نمام دونوں حدیث بالا کی وعید میں داخل ہیں۔
وقال اللیث الھمزة من یغتابك بالغیب و اللمزة من یغتابك فی وجھك یعنی ہمزہ وہ لوگ جو پیٹھ پیچھے تیری برائی کرے اور لمزہ وہ جو سامنے برائی کریں۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6056 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6056 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6056. حضرت ہمام سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ ؓ کے پاس موجود تھے کہ انہیں ایک شخص کے متعلق کہا گیا وہ یہاں کی باتیں حضرت عثمان بن عفان ؓ کو پہچاتا ہے حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6056]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں قتات کے الفاظ ہیں جبکہ ایک روایت میں نمام مروی ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 290(105)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قتات اور نمام کے ایک ہی معنی (چغل خور)
ہیں۔
لغت کے اعتبار سے ان میں یہ فرق ہے کہ نمام مجلس میں حاضررہ کر وہاں کی باتیں دوسروں کو بتاتا ہے جبکہ قتات چوری چھپے سن کر باتیں آگے پہنچاتا ہے۔
(2)
بہرحال لوگوں میں فساد ڈالنے کی غرض سے ایک دوسرے کی باتیں اِدھر اُدھر نقل کرنا اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے نزدیک بدترین جرم ہے۔
اس قسم کی احادیث کو اسی طرح بغیر تأویل کے بیان کرنا چاہیے جس طرح نقل ہوئی ہیں تاکہ لوگ ایسے جرائم کا ارتکاب نہ کریں، اگرچہ یہ سزا زجر وتہدید پر محمول ہے اور ان کے معنی یہ ہیں کہ اس قسم کے کام کرنے والا ابتدائی طور پر جنت میں نہیں جائے گا، البتہ سزا بھگتنے کے بعد اس کے متعلق جنت کی امید کی جا سکتی ہے کیونکہ قرآن میں جنت میں نہ جانے کی سزا صرف مشرک کے لیے ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6056 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 105 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت حذیفہ ؓ کو پتا چلا ایک آدمی لگائی بجھائی کرتا ہے تو حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ’’چغل خور جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:290]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: نَمَّامٌ: چغل خور: ایک انسان کی بات دوسرے تک اس غرض سے پہنچانا کہ دوسرا پہلے سے بد ظن اور ناراض ہو جائے اور ان کے باہمی تعلقات میں بگاڑ و فساد پیدا ہو جائے یہ نمیمہ کہلاتا ہے۔
اس سے نمام ماخوذ ہے۔
فوائد ومسائل:
چغل خوری کی عادت، ان سنگین گناہوں میں سے ہے جو جنت کے داخلہ میں رکاوٹ بننے والے ہیں۔
اور کوئی آدمی اس گندی اور غلیظ عادت کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہو سکے گا الا کہ وہ توبہ کرلے یا اس کے پاس اس قدر عظیم نیکیاں ہوں جن کی بنا پر اس سے معافی مل جائے، یا دوزخ کی آگ اس جرم سے اس کو پاک صاف کر دے۔
اس فعل کی ذاتی تاثیر آگ میں داخلہ ہی ہے۔
جب چغلی کا اثر ختم ہوجائے گا تو وہ دوزخ سے نکل آئے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 105 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 105 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ہمام بن حارثؒ بیان کرتے ہیں: کہ ایک آدمی لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو لوگوں نے کہا: یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں، اور وہ آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حذیفہ ؓ فرمانے لگے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے: ’’لگائی بجھائی کرنے والا جنّت میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:291]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: قَتَّاتٌ، نَمَّامٌ: کے معنی میں ہے۔
بعض کے نزدیک لوگوں کی چوری چھپے باتیں سننے والے کو قتات کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 105 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2026 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چغل خور کا بیان۔`
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: چغل خور جنت میں نہیں داخل ہو گا ۱؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات» ، «نمام» چغل خور کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2026]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: حاکموں اورحکومتی عہدہ داروں کے پاس اہل ایمان اورصالح لوگوں کی چغلی کرنے والوں، ان کی رپورٹیں بنا بنا کرپیش کرنے والوں اور جھوٹ سچ ملا کر اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور اُس کی سزا کو ہمیشہ مدّنظر رکھناچاہئے، دنیاوی مفادات چاردن کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ اُخروی حیات کا آخری کوئی سرانہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2026 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4871 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´چغل خور کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4871]
فوائد ومسائل:
1) لوگوں میں فساد ڈالنے کی غرض سے ایک دوسرے کی باتیں ادھر ادھر نقل کرنا بدترین خصلت ہے۔
لوگوں کے نزدیک بھی اور اللہ کے ہاں بھی۔

2) اس طرح کی احادیث عموما ایسے ہی بیان کرنی چاہیئں تاہم نص قرآنی سے ثابت ہے کہ جنت صرف مشرک پر حرام ہے، لیکن بطور سزا کے مسلمان بھی جہنم کا عذاب بھگتیں گے۔
اس لیے بعض اعمال کی بابت جو آتا ہے کہ اس کا مرتکب جنت میں نہیں جائے گا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ابتدائی طور پر جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
البتہ سزا اور عتاب کے بعد جنت میں جائے گا۔

3) عربی زبان میں (قتات) اور (نمام) میں فرق یہ کیا جاتا ہے کہ (نمام) مجلس میں حاضر رہ کر وہاں کی باتیں دوسروں کو جا بتاتا ہے جبکہ (قتات) چوری چھپے سن کر نقل کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4871 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1301 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
سخن چیں جنت میں نہیں جائے گا
«وعن حذيفة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا يدخل الجنة قتات .‏‏‏‏ متفق عليه»
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سخن چیں (عیب جُو، لوگوں کی برائیاں ڈھونڈنے والا) جنت میں نہیں جائے گا۔ بخاری و مسلم۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1301]
تخریج:
[بخاري 6056 ]، [ مسلم الايمان 169/170 ]، [تحفة الاشراف 3/54 ]
مفردات:
«قَتَّاتٌ» بعض علماء نے فرمایا کہ «قتات» اور «نمام» ایک ہی ہیں۔ یعنی چغل خور۔ چناچہ یہ حدیث ان الفاظ میں بھی آئی ہے: «لا يدخل الجنة نمام» [صحيح مسلم، الايمان 168 ]
چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
بعض نے ان کا فرق بیان کیا ہے کہ «نمام» (چغل خور) وہ ہے جو کسی موقعہ میں موجود ہوتا ہے اور اس میں ہونے والی باتیں کسی دوسرے تک آپس میں بگاڑ پیدا کرنے کے لئے پہنچاتا ہے کیونکہ «نم اليه الحديث» کا معنی ہے کسی شخص تک بات پہنچانا اسے پھیلانے کے لیے اور ان کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے۔ [قاموس]
اور «قتات» وہ جو لوگوں کی عیب کی باتیں چھپ کر سنتا ہے یا ادھر ادھر سے سن کر جمع کرتا ہے اور دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ بہرحال چغلی اور سخن چینی (عیب جوئی) دونوں ہی نہایت قبیح افعال ہیں۔
فوائد:
چغلی کی مذمت:
مسلم کی حدیث میں «نمام» (چغل خور) کے متعلق فرمایا کہ وہ جنت میں نہیں جائے گا اس سے معلوم ہوا کہ چغلی حرام ہے۔ قرآن مجید میں کفار کی صفات میں ایک صفت یہ بیان فرمائی: «هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11]
بہت طعنے دینے والا، بہت زیادہ چغلی چلانے والا۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے (مشکل) کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا اور دوسرا «فكان يمشي بالنميمة» چغلی چلاتا تھا [ بخاري: 218 ] حقیقت یہ ہے کہ چغلی سے باہمی محبت و الفت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور چغل خور معاشرے کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس لیے اس سے بہت ہی پرہیز کرنا چاہیے اور اگر کوئی چغلی لے کر آئے تو اس کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے وہ جس طرح دوسروں کی بات تمہارے پاس لے کر آ رہا ہے تمہاری باتیں دوسروں تک اسی طرح پہنچائے گا۔
سخن چینی اور عیب جوئی کی مذمت:
«قتات» اگر «نمام» (چغل خور) کے معنی میں ہی ہو تو اس کی مذمت اوپر گزر چکی لیکن اگر اس سے مراد لوگوں کی باتیں سننا انہیں جمع کرنا اور آگے پہنچانا ہو تو اس میں چغل خوری کے علاوہ ایک زائد چیز کی مذمت بھی کی گئی ہے یعنی لوگوں کی جاسوسی کرنا ان کے عیب تلاش کرنا اور دوسروں کو پہنچانا۔ یہ بھی حرام ہے اور اس گناہ کا مرتکب بھی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
صحیح بخاری میں ہمام سے روایت ہے کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ فلاں شخص (لوگوں کی) باتیں عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچاتا ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے تھے: «لا يدخل الجنة قتات» لوگوں کی باتیں تلاش کر کے آگے پہنچانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 212 سے ماخوذ ہے۔