حدیث نمبر: 437
437 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعٌ بِمِثْلِهَا عَنْ هِشَامٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 437
درجۂ حدیث محدثین: وانظر التعليق السابق
تخریج حدیث «وانظر التعليق السابق»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 41 | سنن دارمي: 694 | سنن ابن ماجه: 315 | مسند الحميدي: 436

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 41 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان`
«. . . فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ . . .»
". . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 41]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث میں گوبر اور ہڈی سے استنجا کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث: 262]
غالباً اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 315 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔`
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
اردو حاشہ:
(رَجِيع)
كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث)
کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔
جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگا اس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معناً یہ روایت بھی صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 315 سے ماخوذ ہے۔