حدیث نمبر: 429
429 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّي أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ «نَعَمْ» ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ: " تَعَالَ؛ هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے، اگر میں اللہ کی راہ میں اپنی یہ تلوار چلاتا ہوں اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے (دشمن کا) سامنا کرتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے قتل ہو جاتا ہوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہو رہا ہے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آگے آؤ! جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے ہیں، اگر تم پر قرض ہوا تو وہ معاف نہیں ہو گا۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 429
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن وأخرجه مسلم برقم: 1885، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1676 ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4654، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 4349، 4350، 4351، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1712، والدارمي فى«مسنده» ، برقم: 2456، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11074،17898، 18018 وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22978»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1885 | سنن ترمذي: 1712 | سنن نسائي: 3158 | سنن نسائي: 3159 | سنن نسائي: 3160 | مسند الحميدي: 430

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1885 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ان کے درمیان وعظ کے لیے کھڑے ہوئے اور بیان فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر عمل ہے۔‘‘ تو ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا، یا رسول اللہﷺ! مجھے بتائیے، اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں، تو کیا مجھے میرے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’ہاں، اگر تو اللہ کی راہ میں، صابر اور ثواب کی نیت کرتے ہوئے، سامنے منہ کر کے، پشت دکھا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4880]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ایمان باللہ دین کی بنیاد اور اساس ہے، اس کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے اور ارکان خمسہ میں سے یہ اساس ہے اور جہاد اگرچہ ارکان خمسہ میں داخل نہیں ہے، لیکن یہ ان کا محافظ ہے اور دین کی اقامت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے، لیکن حقوق العباد کا مارنا اتنا سنگین جرم ہے، کہ جہاد جیسی عظیم چیز بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتی، لیکن آج لوگوں کا پیسہ کھانا اور ان کے حقوق پامال کرنا حقیر عمل سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کے مال و جائیداد ہڑپ کرنے کے لیے قبضہ گروپ دندناتے پھرتے ہیں، کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے، نیز اگر مال کا ہڑپ کرنا معاف نہیں ہو سکتا، تو قتل اور خون بہانا کیسے معاف ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1885 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1712 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے پر قرض ہو تو کیا حکم ہے؟`
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے ۱؎، (یہ سن کر) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو ، پھر آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1712]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
افضل اعمال کے سلسلہ میں مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل بتایاگیا ہے، اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں، ان احادیث میں ’’أفضل الأعمال‘‘ سے پہلے ’’من‘‘ پوشیدہ مانا جائے، مفہوم یہ ہوگا کہ یہ اعمال افضل ہیں، یا ان کا تذکرہ احوال واوقات اور جگہوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہے، یہ بھی کہا جاتاہے کہ مخاطب کی روسے مختلف اعمال کی افضلیت کو بیان کیاگیا ہے۔
2؎: یعنی وہ قرض جس کی ادائیگی کی نیت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1712 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3160 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مقروض شخص کا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر (کھڑے خطاب فرما رہے) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: یہ جبرائی [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3160]
اردو حاشہ: ’’واجب الادا حقوق‘‘ عربی عبارت میں دَیْنَ استعمال فرمایا گیا ہے جس کے معنی عموماً قرض کے کرلیے جاتے ہیں مگر یہ اس کے حقیقی معنی نہیں بلکہ اس کی ایک صورت ہے۔ دَیْنَ سے مراد وہ حق ہے جو کسی کے ذمے دوسرے کے لیے واجب الادا ہو‘ خواہ وہ قرض ہو یا کسی پر زیادتی کی ہو‘ جب کہ قرض تو یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز عاریتاً لی ہو اور اسے مدت مقرر پر واپس کرنا ہو۔ ضرورت کے موقع پر قرض لینا جائز ہے۔ خود رسول اللہﷺ نے لیا ہے‘ البتہ وقت مقرر پر‘ باوجود وسعت کے‘ ادا نہ کرنا یا لینا یا لیتے وقت ہی عدم ادائیگی کی نیت رکھنا جرم ہے۔ ادائیگی کی نیت ہو عدم وسعت کی بنا پر ادا نہ کرسکے تو یہ جرم نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے‘ حدیث: 3157)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3160 سے ماخوذ ہے۔