حدیث نمبر: 416
416 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «أَعْطَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَي عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ فَقَالَ عُمَرُ أَوْ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ¤ ¤ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعَبِيدِ ... بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ ¤ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ ... يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ ¤ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا ... وَمَنْ يُخْفَضِ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ ¤ قَالَ» فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً " ¤
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصن اور اقرع بن حابس کو ایک، ایک سو اونٹ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن مرداس کو اس سے کم دیے۔ اس کے بعد سفیان نامی راوی یا شاید عمر بن سعید نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: اس موقع پر عباس بن مرداس نے یہ اشعار کہے: ”کیا آپ میرے اور (میرے گھوڑے) عبید کو عینیہ اور اقرع سے کم حصہ دے رہے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران وہ دونوں کسی بھی حوالے سے مرداس پر فوقیت نہیں رکھتے، میں ان دونوں سے کم حیثیت کا مالک نہیں ہوں، اور آج جس کی حیثیت کو گھٹا دیا گیا، تو پھر وہ بلند نہیں ہو گی۔“ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی پورے سو اونٹ عطا کئے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 416
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «الزكاة» برقم: 1060، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4827، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13302، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 4396»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
416- سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوۂ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصن اور اقرع بن حابس کو ایک، ایک سو اونٹ دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن مرداس کو اس سے کم دیئے۔ اس کے بعد سفیان نامی راوی یا شاید عمر بن سعید نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: اس موقع پر عباس بن مرداس نے یہ اشعار کہے: کیا آپ میرے اور (میرے گھوڑے) عبید کو عینیہ اور اقرع سے کم حصہ دے رہے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران وہ دونوں کسی بھی حوالے سے مرداس پر فوقیت نہیں رکھتے، میں ان دونوں سے کم حیثیت کا مالک نہیں ہوں، اور آج جس کی حیث۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:416]
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ نام کی کیفیات دیکھ کر مال غنیمت تقسیم کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 416 سے ماخوذ ہے۔