حدیث نمبر: 401
401 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَكْلُهَا، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلَا أُخْبِرُكَ مِمَّا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: «نَهَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ، وَعَنْ كُلِّ خَطْفَةٍ خَطَفَهُ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ» فَقَالَ سَعِيدٌ صَدَقْتَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

عبداللہ بن یزید سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے بجو کھانے کے بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولے: کیا کوئی شخص اسے کھا سکتا ہے؟ میں نے کہا: میری قوم سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا شکار کر کے اسے کھاتے ہیں، تو سعید بولے: اسے کھانا درست نہیں ہے، تو ان کے پاس موجود ایک عمر رسیدہ صاحب نے کہا: کیا میں آپ کو اس چیز کے بارے میں بتاؤں، جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے۔ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور سے کاٹے جانے والے عضو اور نشانہ بنا کر مارے جانے والے جانور، ہر نوکیلے دانتوں والے جانور کو کھانے سے منع کیا ہے۔“ تو سعید نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده جيد: أخرجه الترمذي في«جامعه» برقم: 1473، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22120 ، برقم: 28160، والبزار فى «مسنده» ، برقم: 4091، وعبد الرزاق فى «مصنفه» ، برقم: 8687،8688»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1473

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1473 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1473]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مصبورہ: وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہو، ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایاہے، کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1473 سے ماخوذ ہے۔