394 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالُوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ حَتَّي خَصَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَهُوَ رِبًا»سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سونے کے عوض سونے کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ کھجور کے عوض کھجور کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ گندم کے عوض گندم کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ جو کے عوض میں جو کا لین دین برابر، برابر ہو گا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص نمک کے عوض نمک کے لین دین کا بھی ذکر کیا (اور یہ فرمایا) جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلبگار ہو، تو یہ سود ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں خرید وفروخت کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ ایک جیسی دو چیزوں کو ایک دوسرے کے تبادلے میں فروخت کرنا درست ہے لیکن بعض شرائط کے ساتھ: ① وزن میں برابر برابر ہوں، اگر وزن میں زیادہ لی جائے گی تو یہ سود ہو گا۔
② نقد و نقدی ہو۔ جب کم تر چیز کے بدلے میں اعلٰی یا اعلٰی چیز کے بدلے میں کم تر چیز لینا چا ہے، یعنی جب ان کی جنس ایک ہونے کے باوجود کوالٹی میں فرق ہو، تو اپنی چیز کو بازار میں فروخت کر دے، پھر قیمتاً دوسری چیز کو خرید لے، تا کہ حرام کام کا مرتکب نہ ہو۔