حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 389
389 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُصَلِّي أَرْبَعًا وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ أَوِ الْجَنَّةِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے اور یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”سورج ڈھلنے کے وقت آسمان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1270 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان۔`
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔" ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1270]
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔" ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1270]
1270. اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کہا ہے، جبکہ آئندہ حدیث [1295]، ان کے نزدیک ’’صحیح‘‘ ہے۔ جس میں ہے کہ دن اور رات کے نفل دو دو رکعت ہیں، اس لیے سنتوں اور نوافل کو دو دو کر کے ہی پڑھنا راجح اور افضل ہے۔ تاہم ایک سلام سے چار رکعت پڑھ لینا بھی جائز ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کہا ہے، جبکہ آئندہ حدیث [1295]، ان کے نزدیک ’’صحیح‘‘ ہے۔ جس میں ہے کہ دن اور رات کے نفل دو دو رکعت ہیں، اس لیے سنتوں اور نوافل کو دو دو کر کے ہی پڑھنا راجح اور افضل ہے۔ تاہم ایک سلام سے چار رکعت پڑھ لینا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1270 سے ماخوذ ہے۔