380 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ لِي ابْنُ عَمٍّ شَاسِعُ الدَّارِ فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتُ بَيْتًا قَرِيبًا مْنَ الْمَسْجِدِ أَوْ حِمَارًا قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِيَ مُطْنَبًا بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً مُنْذُ أَسْلَمَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْهَا فَإِذَا هُوَ يَذْكُرُ الْخَطَأَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةِ يَخْطُوهَا إِلَي الْمَسْجِدِ دَرَجَةً»سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک چچا زاد تھا جس کا گھر بہت دور تھا، میں نے اس سے کہا: اگر تم مسجد کے قریب کوئی گھر لے لو یا کوئی گدھا لے لو، تو یہ مناسب ہو گا۔ تو وہ بولا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے درمیان ہو۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے اس نے اسلام قبول کیا تھا اس کی زبانی میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی جو مجھے اس سے زیادہ بری لگی ہو۔ اور اب وہ پیدل چل کر آنے کا ذکر کر رہا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسجد کی طرف چل کر آتے ہوئے وہ جتنے قدم اٹھائے گا اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک درجہ ملے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
هَوَامِّ: هَامة کی جمع ہے، زہریلے کیڑے مکوڑوں کو کہتے ہیں۔
(2)
مُطَنَّب: طَنَب سے ماخوذ ہے۔
خیمے کو رسیوں سے باندھنا۔
مقصد ہے کہ میرا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے متصل ہوتا۔
(3)
حَمَلْتُ بِهِ حِمْلاً: میں نے سینہ پر بوجھ اٹھایا، مقصد یہ ہے کہ اس کے یہ الفاظ میرے لیے بہت ناگواری کا باعث بنے۔
(4)
فِي أَثَرِهِ: اس چال اور آمدورفت کے سبب۔
فوائد ومسائل: انصاری صحابی کا مقصد یہ تھا میرا گھر مسجد سے دور ہے مجھے آنے جانے میں مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور میں یہ مشقت محض اس امید پر برداشت کرتا ہوں کہ مجھے اس کا اجر ملے گا۔
میں اپنے اجرو ثواب سے کسی صورت میں محروم نہیں ہونا چاہتا، یہ نہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب و جوار کو پسند نہیں کرتا تھا۔
کا انسان کو اجرو ثواب ملتا ہے اس لیے مسجد سے مسافت کے بعد اور دوری سے ڈر کر یا اس کو بہانا بنا کر گھر میں نماز پڑھ لینا درست نہیں ہے نماز کے لیے جس قدر مشقت برداشت کرے گا۔
یا دور سے آئے گا اتنا ہی اجرو ثواب میں اضافہ ہو گا۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا)! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 783]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نیکیاں حاصل کرنے کا کس قدر شوق رکھتے تھے یہ واقعہ اس کی ایک ادنٰی مثال ہے کہ دور دراز راستے کی مشقت صرف اس لیے گوارا ہے کہ دور سے چل کر آنے میں ثواب زیادہ ہوگا۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی باہمی ہمدردی بھی قابل اتباع ہے کہ ایک صحابی اپنے ساتھی کی مشقت کو اس طرح محسوس کرتا ہے گویا وہ مشقت خود اسے لاحق ہے اس لیے اسے مناسب مشورہ دیتا ہے۔
(3)
مسلمان کی خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے اچھا مشورہ دیا جائے اگر چہ اس نے مشورہ طلب نہ کیا ہو۔
(4)
حضرت ابی نے اس صحابی کی بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی تاکہ آپ ﷺ اسے نصیحت فرمائیں اس لیے اگر کسی کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ فلاں بزرگ کی نصیحت پوری کرلے گا تو اس بزرگ کو اس ساتھی کی غلطی اصلاح کی نیت سے بتا دینا جائز ہے۔
البتہ اسے ذلیل کرنے کی نیت سے بتانا درست نہیں۔
(5)
کسی کی شکایت پہنچے تو تحقیق کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی نامناسب رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
بہتر ہے کہ خود نامناسب الفاظ کہنے والے سے دریافت کرلیا جائے کہ اس کا ان الفاظ سے کیا مطلب ہے؟
(6)
مومن کی اچھی نیت ثواب کا باعث ہے۔