حدیث نمبر: 374
374 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرَقَانِ الْأَهْوَازِيُّ أَبُو هَمَّامٍ قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هَصَّانِ بْنِ كَاهِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَي قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کا رسول ہوں اور وہ یقین رکھنے والے دل کے ساتھ (دنیا سے) واپس جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح : وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 203، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 16، والنسائي فى "الكبرى" ، برقم: 10909 وابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 3796، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22420، والبزار فى «مسنده»، برقم: 2621، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 71»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3796 | سلسله احاديث صحيحه: 12

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3796 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔`
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3796]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 نجات کا دارومدار دل کے یقین پر ہے، اس کے بغیر زبان کا اقرار نجات کے لیے کا فی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3796 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سلسله احاديث صحيحه / حدیث: 12 کی شرح از حافظ محفوظ احمد ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان اس حال میں مرتا ہے کہ وہ یقین کرنے والے دل سے گواہی دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتے ہیں۔... [صحيحه: 12]
فوائد:

جو آدمی درج ذیل کلمہ یقین دل سے ادا کرے گا، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

«أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله»

اس مبارک کلمے کی ان ہی برکات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کی تلقین کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «أَكْثِرُوا مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ أَن يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهَا وَلَقَنُوهَا مَوْتَاكُمْ» [صحيحه: 467]

اللہ تعالی کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔