حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 372
372 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا فَقَالَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُكُنَّ إِنَّمَا آخُذُ عَلَيْكُنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
شهر بن حوشب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے چند خواتین کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ مصافحہ نہیں کروں گا۔ میں نے تم سے وہ عہد لیا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے لینا تھا“ (یا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3298 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھانا پیش کیے جانے کا بیان۔`
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3298]
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3298]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھاتے وقت موجود افراد کو کھانے کی پیش کش کرنا اچھی عادت ہے۔
(2)
کھانے کی پیش کش کی جائے تو بھوک ہونے پر قبول کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
بھوک نہ ہو توایسی پیش کش قبول نہ کرنے میں حرج نہیں۔
شکریہ ادا کرنا چاہیے تاہم بہتر ہے کہ ایک دولقمے لے لیے جائیں۔
(4)
جھوٹ تکلف کے موقع پر بھی اچھا نہیں۔
معذرت کے لیے کوئی اور مناسب انداز اختیار کر لیا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھاتے وقت موجود افراد کو کھانے کی پیش کش کرنا اچھی عادت ہے۔
(2)
کھانے کی پیش کش کی جائے تو بھوک ہونے پر قبول کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
بھوک نہ ہو توایسی پیش کش قبول نہ کرنے میں حرج نہیں۔
شکریہ ادا کرنا چاہیے تاہم بہتر ہے کہ ایک دولقمے لے لیے جائیں۔
(4)
جھوٹ تکلف کے موقع پر بھی اچھا نہیں۔
معذرت کے لیے کوئی اور مناسب انداز اختیار کر لیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3298 سے ماخوذ ہے۔