370 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنِسُ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرَهَا، فَتَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ مَكَانَ يَوْمٍ بِخَيْرٍ قَطُّ»سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں کچھ خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ انعام دینے والوں کی ناشکری سے بچو۔“ میں نے دریافت کیا: انعام دینے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت بیوہ یا مطلقہ ہو جانے کے بعد، یا شادی سے پہلے، ایک طویل عرصے تک اپنے ماں باپ کے ہاں رہتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شوہر کی طرف سے اسے مال اور اولاد عطا کرتا ہے، لیکن (کسی موقع پر) اس کو غصہ آ جاتا ہے اور وہ اس کی ناشکری کرتی ہے اور یہ کہتی ہے: میں نے تمہاری طرف سے ایک بھی دن بھلائی کا کبھی نہیں دیکھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
اجنبی عورتوں کو جہاں فتنے اور شبہےکا اندیشہ ہو، سلام کہنا سنت ہے۔
بالخصوص قوم کے بڑوں اوربزرگوں کے لئے یہ ایک مستحب عمل ہے۔
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3701]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر فتنے کا خوف نہ ہو تو مرد نا محرم عورت کو اور عورت نا محرم مرد کو سلام کہہ سکتی ہے۔
(2)
فتنے کا خوف نہ ہونے کی صورت یہ ہےمثلاً: عورت بوڑھی ہو یا کئی عورتیں موجود ہوں اور کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مرد انہیں سلام کہہ سکتا ہے۔
(3)
جوان عورت کا تنہا مرد کو یا مرد کا جوان عورت کو سلام کرنا خرابیاں پیدا ہونے کا باعث ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے البتہ محرم مرد اور عورت ایک دوسرے کو سلام کر سکتے ہیں بلکہ آپس میں سلام کرنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں نا مناسب خیالات پیدا ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔