حدیث نمبر: 356
356 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَإِنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مَتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دنیا کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، جو اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے مال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں تصرف کرنے والے (یعنی ناحق طور پر اسے حاصل کرنے والے) کے لیے اس دن آگ ہو گی جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔“ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”قیامت کے دن۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد:
تخریج حدیث «إسناده جيد: وأخرجه البخاري فى "فرض الخمس " برقم: 3118، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2892، 4512، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2374، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 35523»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2374

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
356- سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دنیا کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، جو اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے مال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں تصرف کرنے والے (یعنی ناحق طور پر اسے حاصل کرنے والے) کے لئے اس دن آگ ہوگی جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ سفیان نامی راوی نے بعض او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:356]
فائدہ:
حدیث میں حق کے مطابق کا مطلب ہے کہ حلال آمدنی جو حلال ذرائع سے حاصل کی جائے، اس میں برکت ہی برکت ہے، لیکن اگر کوئی ناجائز اور حرام طریقوں سے روزی کما تا ہے تو اس میں خیر و برکت نہیں ہوگی، بلکہ دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے دور ہو گا، اور آخر کار اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 356 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2374 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان۔`
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2374]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مال سے مراد دنیاہے، یعنی دنیا بے انتہا میٹھی، ہری بھری، اور دل کو لبھانے والی ہے، زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہئے، کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اورحرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2374 سے ماخوذ ہے۔