حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 343
343 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: نَزَلْتُ عَلَي أُمِّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةِ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَي سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَيَّهَا قَرَأْتَ أَصَبْتَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
عبید اللہ بن ابویزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ ام ایوب انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا تو انہوں نے مجھے بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تم اس میں سے جو بھی قرأت کرو گے وہ ٹھیک ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
343- عبید اللہ بن ابویزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ ام ایوب انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا تو انہوں نے مجھے بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تم اس میں سے جو بھی قرأت کروگے وہ ٹھیک ہوگی۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:343]
فائدہ:
اس حدیث سے قرأت سبعہ کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ حجت ہے، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، اس سے مراد قرٱتیں ہیں، اور فن قرأت ایک مستقل فن ہے، اس کی مفصل اور مختصر بہت زیادہ کتب ہیں، قدیم قراء نے اس پر بہت زیادہ کام کیا ہے، ہر ہر قرأت با سند ثابت ہے۔ والحمد اللہ!
اس حدیث سے قرأت سبعہ کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ حجت ہے، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، اس سے مراد قرٱتیں ہیں، اور فن قرأت ایک مستقل فن ہے، اس کی مفصل اور مختصر بہت زیادہ کتب ہیں، قدیم قراء نے اس پر بہت زیادہ کام کیا ہے، ہر ہر قرأت با سند ثابت ہے۔ والحمد اللہ!
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 343 سے ماخوذ ہے۔