342 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي»سیدہ ام ایوب انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے میں سبزی پکائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پسند نہیں آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم لوگ اسے کھا لو، کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) کو اذیت پہنچاؤں۔“
342 - قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي يُحَدَّثُ بِهِ عَنْكَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّي مِمَّا يَتَأَذَّي مِنْهُ بَنُو آدَمَ «فَقَالَ» حَقٌّ "
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ اس روایت کے بارے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی، جس سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بالکل درست ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز کھانا یا استعمال کرنا نا پسندیدہ ہے جس سے منہ سے بدبو آنا شروع ہو جائے، مثلا: پیاز، لہسن، حقہ، سگریٹ وغیرہ۔ یاد رہے کہ پیاز اور لہسن کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس سے بو ختم ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جبرائیل امین علیہ السلام میں بھی اللہ تعالیٰ نے قوت حس رکھی ہے، اس لیے تو وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ بعض محدثین اور تابعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار ہوا ہے۔ بعض لوگ خود ہی جھوٹے خواب بنا کر لوگوں کو مرعوب کرتے پھرتے ہیں، ان کی فریب کاریوں میں نہیں آنا چاہیے۔