331 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْكَ هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَكْذِبَ أَهْلِي؟ قَالَ: «لَا فَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْكَذِبَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَصْلِحُهَا وَأَسْتَطِيبُ نَفْسَهَا قَالَ: «لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ»عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل کرے، مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! لیکن اللہ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں، یا خوش کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیوی کے ساتھ مصلحت کی خاطر جھوٹ بولنا درست ہے، اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ یہ بات تجر بہ شدہ ہے کہ بعض معاملات میں بطور اصلاح بیوی کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹ درست ہے۔ اسی طرح دو آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کی خاطر بھی جھوٹ بولنا درست ہے۔
قسطلانی ؒنے کہا ایسے جھوٹ کی رخصت ہے جس سے بہت فائدے کی امید ہو۔
امام مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت ہے۔
ایک تو لڑائی میں، دوسرے مسلمانوں میں آپس میں میل جول کرانے میں، تیسرے اپنی بیوی سے۔
بعضوں نے اور مقاموں کو بھی جہاں کوئی مصلحت ہو، انہیں پر قیاس کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا جب منع ہے جب اس سے نقصان پیدا ہو یا اس میں کوئی مصلحت نہ ہو، بعضوں نے کہا جھوٹ ہر حال میں منع ہے اور ایسے مقاموں میں توریہ کرنا بہتر ہے مثلاً کوئی ظالم سے یوں کہے میں تو آپ کے لیے دعا کیا کرتا ہوں اور مطلب یہ رکھے اللهم اغفر للمسلمین کہا کرتا ہوں، اور ضرورت کے وقت تو جھوٹ بولنا بالاتفاق جائز ہے۔
ضرورت سے مذکورہ صلح صفائی کی ضرورت مراد ہے، یا کسی ظالم کے ظلم سے بچنے یا کسی کو بچانے کے لیے جھوٹ بولنا، حدیث إنما الأعمالُ بالنیاتِ کا یہ بھی مطلب ہے۔
چونکہ اس جھوٹ سے مقصود شر اور فساد کو دفع کرنا ہوتا ہے، اس لیے اسے جھوٹ شمار نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ حقیقت میں جھوٹ ہی ہے۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ’’تین موقعوں پر خلاف واقعہ بات کرنے میں کوئی حرج نہیں: ایک جنگ کے موقع پر جھوٹ بولنا تاکہ دشمن دھوکے میں آ جائے، دوسرا صلح کراتے وقت خلاف واقعہ بات کہنا اور تیسرا خاوند بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6633(2605)
ان کے علاوہ صریح جھوٹ ناجائز اور باعث لعنت ہے۔
(فتح الباري: 369/5)
ينمي خيرا: ایک فریق کی دوسرے فریق تک اچھی اور بہتر بات پہنچاتا ہے، تاکہ ان کے درمیان صلح کروا سکے، اويقول خيرا: اور اچھا اثر ڈالنے والی بات بیان کرتا ہے اور بری بات سے خاموشی اختیار کرتا ہے، وہ نقل نہیں کرتا۔
فوائد ومسائل: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں یا دو گروہوں میں سخت نزاع اور رنجش ہے، ہر فریق دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتا ہے، ان میں بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں، جو باہمی اختلاف اور نزاع کو ختم کرنے یا کم از کم، کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں، ایسی صورت میں اگر کوئی نیک نیت اور مخلص انسان دونوں فریقوں میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو خیر اندیشی کی باتیں پہنچاتا ہے، جن سے عداوت و اختلاف کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور خوش گمانی اور مصالحت کی فضا پیدا ہو سکے اور ایک دوسرے کی مخالفت و عداوت میں کہی گئی باتیں چھپا لے تو یہ اچھی اور بہتر بات ہے، اسی طرح جنگ و جدال میں توریہ و تعریض سے کام لیا جا سکتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے محبت و پیار کے اظہار میں مبالغہ سے کام لے سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ جھوٹ نہیں ہے، تفصیل کتاب الجہاد میں، باب جواز الخداع فی الحرب "لڑائی میں دھوکا کا جواز" میں گزر چکی ہے۔
ام کلثوم بنت عقبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ (خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1938]
وضاحت:
1؎:
لوگوں کے درمیان صلح ومصالحت کی خاطر اچھی باتوں کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا درست ہے، یہ اس جھوٹ کے دائرہ میں نہیں آتا جس کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، مثلاً زید سے یہ کہنا کہ میں نے عمر کو تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وغیرہ، اسی طرح کی بات عمر کے سامنے رکھنا، ایسا شخص جھوٹانہیں ہے، بلکہ وہ ان دونوں کا محسن ہے، اور شریعت کی نظر میں اس کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4921]
1۔
مسلمان بھائیوں میں صلح اور اصلاح کے لیئے کوئی بات بنانی پڑ جائے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔
یہ جھوٹ معیوب نہیں ہوتا۔
2۔
میاں بیوی اگر کسی ناراضی کو دور کرنے کے لیئے یا لفظی طور پر ایک دوسرے کو محبت جتلانے کے لیئے کوئی بات کہیں تو جائز ہے تاکہ انکی عائلی زندگی مسرت بھری رہے۔
3۔
دشمن کو دھوکہ دینا بھی جائز ہے۔