326 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَانُوا إِذَا سَأَلُوا عَنْ شَيْءٍ صَدَقَهُمْ، فَقَالُوا: أَلَسْتَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: «بَلَي» فَتَشَبَّثُوا بِهِ بِأَجْمَعِهِمْ فَأَتَي الصَّرِيخُ إِلَي أَبِي بَكْرٍ فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ غَدَايِرَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ، قَالَ: فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلُوا عَلَي أَبِي بَكْرٍ فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَايِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِسیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں نے ان سے دریافت کیا: آپ نے مشرکین کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے تو انہوں نے بتایا: مشرکین مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنے معبودوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کا تذکرہ کر رہے تھے وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہ لوگ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو سچ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ایسی بات نہیں کہی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو وہ سب لوگ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے تو کسی شخص نے بلند آواز میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا ان سے کہا گیا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں سے نکلے اس وقت ان کے لمبے لمبے بال تھے۔ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور یہ کہتے جا رہے تھے تمہارا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتے ہیں: ”میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلائل بھی آ چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے (اور ان پر حملہ کر دیا) جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں واپس تشریف لائے تو ان کے جس بھی بال کو ہاتھ لگایا جاتا وہ ہاتھ میں آ جاتا تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہی کہہ رہے تھے ”اے جلال اور اکرام والے تو برکت والا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں کفار کی طرف سے مسلمانوں کو دی جانے والی بعض تکلیفوں کا ذکر ہے، اسلام کی خاطر تکالیف کو صبر تحمل سے برداشت کرنا چاہیے، پر یشانی نہیں لینی چاہیے، دل برداشتہ ہو کر مشن اسلام کو چھوڑ دینا بہت بڑا خسارا ہے۔