مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 321
321 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يَنَلْ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو، اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 321
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5219 | صحيح مسلم: 2130 | سنن ابي داود: 4997 | معجم صغير للطبراني: 1053

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
321- فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو، اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:321]
فائدہ:
۔ اس حدیث میں جھوٹ کی ایک قسم کا بیان ہے کہ انسان ظاہری اعتبار سے وہ ظاہر کرے جو حقیقت میں اس کے پاس نہ ہو، یہ جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ جھوٹ کی عام قسم ہے، اللہ تعالیٰ ٰ اس سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 321 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5219 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5219. سیدہ اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے کیا مجھے گناہ تو نہیں ہوگا اگر میں اپنے خاوند کی دی ہوئی چیز کو خوب بڑھا چڑھا کر ظاہر کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو نہ دیا جائے اس کا خوب بڑھا کر اظہار کرنے والا ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5219]
حدیث حاشیہ: اور لوگوں میں یہ ظاہر کرے کہ یہ کپڑے میرے ہیں، ایسا شیخی مارنے والا آخر میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
گویا آپ نے سوکن کے سامنے بھی غلط بیانی کی اجازت نہیں دی کمال تقویٰ یہی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5219 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5219 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5219. سیدہ اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے کیا مجھے گناہ تو نہیں ہوگا اگر میں اپنے خاوند کی دی ہوئی چیز کو خوب بڑھا چڑھا کر ظاہر کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو نہ دیا جائے اس کا خوب بڑھا کر اظہار کرنے والا ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5219]
حدیث حاشیہ:
(1)
متشبع کے معنی ہیں: سیرابی کو ظاہر کرنا، حالانکہ وہ سیر شدہ نہیں ہے۔
اسے کپڑوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ سیرابی یا کپڑے دونوں انسان کو چھپا لیتے ہیں، ایک باطنی طور پر دوسرا ظاہری لحاظ سے۔
(2)
بعض حضرات نے دو جھوٹے کپڑوں کے یہ معنی کیے ہیں کہ ایک جھوٹا آدمی، جھوٹی گواہی دینے کے لیے شریف آدمی کی چادر اور تہبند پہن لے تا کہ جھوٹے آدمی کی شرافت ظاہر ہو۔
اس طرح بعض عورتیں اپنی قمیص کے نیچے دوسرے رنگ والا باڈر لگا لیتی ہیں تاکہ وہ دو قمیص ظاہر ہوں۔
(3)
عورت کی طرف سے یہ مذموم حرکت ہے کہ وہ اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کہے کہ خاوند نے مجھے یہ کچھ دیا ہے، حالانکہ اس نے اسے کچھ نہ دیا ہو۔
یہ عورت اس جھوٹے شخص کی طرح ہے جو ریاکاری کے طور پر زاہدوں جیسے کپڑے پہن لیتا ہے، حالانکہ وہ زاہد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 394/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5219 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4997 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایسی چیزوں کے پاس میں ہونے کا بیان جو آدمی کے پاس نہ ہو جھوٹ کا لبادہ اوڑھنا ہے۔`
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4997]
فوائد ومسائل:
کسی مسلمان کو دھوکا دینا یا مانگے تانگے کی چیز پر اترنا کسی صاحب ایمان کو زیب نہیں دیتا ہے۔
اسی طرح سوکنوں کا آپس میں ایسی کیفیت پیدا کرنا کہ دوسری کڑھنے لگے جائز نہیں۔
یا کوئی اپنے آپ کو دکھلاوے کے طور پر زاہد ظاہرکرے، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4997 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔