حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 319
319 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ السَّبَّاقِ أَنَّهُ سَمِعَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: لَا إِلَّا عَظْمٌ قَدْ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيًّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي لَيْسَ هِيَ الْآنَ صَدَقَةًاردو ترجمہ مسند الحمیدی
عبید بن سباق بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں! صرف ایک ہڈی (والا گوشت ہے) جو ہماری کنیز کا صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی لے آؤ، کیونکہ وہ اپنی جگہ تک پہنچ گیا ہے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی اب اس کی حیثیت صدقے والی نہیں رہی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بھوک کی صورت میں میزبان سے کھانے کا خود مطالبہ کر لینا درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی چیز نہیں کھاتے تھے، لیکن اگر کسی کو صدقہ ملا ہے تو وہ چیز اگر آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جائے تو ان کے لیے کھانا درست ہے، کیونکہ اب وہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ نہیں ہے بلکہ صدقہ تو کسی اور پر کیا گیا تھا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بھوک کی صورت میں میزبان سے کھانے کا خود مطالبہ کر لینا درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی چیز نہیں کھاتے تھے، لیکن اگر کسی کو صدقہ ملا ہے تو وہ چیز اگر آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جائے تو ان کے لیے کھانا درست ہے، کیونکہ اب وہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ نہیں ہے بلکہ صدقہ تو کسی اور پر کیا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 319 سے ماخوذ ہے۔