302 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ خَاصَمَ رَجُلًا إِلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَضَي النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَي لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ﴿ فَلَا وَرِبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّي يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہو گیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو وہ شخص بولا: آپ نے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ دیا ہے کیونکہ یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں تو الله تعالی نے یہ آیت نازل کی: ”تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم تسلیم نہیں کرتے اور پھرتم نے جو فیصلہ دیا ہو اس کے بارے میں اپنے من میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے اور اسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔“ (4-النساء:65)
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو من وعن تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مسلمانوں کے فائده تمام معاملات میں حاکم قرآن و حدیث ہے، ورنہ انسان مومن نہیں ہوسکتا۔