مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 297
297 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَرَي الْقَدَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَي الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: اذْهَبْ إِلَي عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ، وَبَعَثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ مَعَنَا فَقَالَ: اذْهَبْ فَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَي أُمِّ سَلَمَةَ فَاسْأَلْهَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَي أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّي عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهَا قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے وہ منبر پر موجود تھے، انہوں نے کثیر بن صلت سے کہا: تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں دریافت کرو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: کثیر بن صلت کے ساتھ میں بھی چلا گیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو ساتھ بھیج دیا انہوں نے فرمایا: تم جاؤ! ام المؤمنین تمہیں جو کہیں گی اسے سن لینا۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: وہ صاحب ان کے ہاں آئے اور ان سے یہ دریافت کیا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے، تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، تو کثیر کے ساتھ میں بھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں دو رکعات نماز ادا کی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے یہ دو رکعات ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسے نماز ادا کی ہے؟ میں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتا ہوں، بنو تمیم کا وفد میرے پاس آ گیا تھا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”زکوٰۃ کا مال آیا تھا، تو اس وجہ سے میں مصروف رہا تو یہ وہی دو رکعات ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا مسنون ہے، جو ان رکعات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص کرتے ہیں، ان سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس کے خاص ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی ان دو رکعتوں کا پڑھنا ثابت ہے، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے۔ (صحیح البخاری: 1231) نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نفلی اور مسنون رکعات کی قضائی دینا بھی درست ہے۔ اس حدیث سے مسنون رکعات کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کا مسنون رکعات کا اہتمام نہ کرنا درست نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زندگی میں ایک بار ہی نماز ظہر کے بعد والی دورکعات رہی تھیں لیکن آپ نے ان کی بھی قضائی دی، اور پھر مستقل نماز عصر کے بعد پوری زندگی دو رکعات ادا کرتے رہے۔ اگر ایک نماز کی مسنون رکعتیں کسی عذر کی وجہ سے رہ جائیں تو ان کو اگلی نماز سے پہلے یا بعد میں، ہر دو صورت میں ادا کرنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 297 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔