حدیث نمبر: 279
279 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاضِعًا يَدَكَ عَلَي مِعْرَفَةِ فَرَسٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ تُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ فَقَالَ «وَقَدْ رَأَيْتِيهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ زَايِرٍ وَمِنْ دَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی پیشانی پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر حضرت کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اسے دیکھا تھا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں بھی سلام ہو اور ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے جو کسی بھی ملاقاتی اور مہمان کو دی جاتی ہے، وہ کتنے اچھے ساتھی اور کتنے اچھے مہمان ہیں۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 279
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ولكن الحديث متفق عليه، وقد استولينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4781، وفي صحيح ابن حبان برقم 7098،. وانظر أيضا تخريج الحديث 4498. فى مسند الموصلي»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبردست فضیات ثابت ہوتی ہے کہ جبرائیل امین علیہ السلام بھی انھیں سلام بھیجتے ہیں۔ کبھی کبھی جبرائیل علیہ السلام سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں بھی وحی لے کر آتے تھے۔ مرد کسی غیر محرم عورت کو نیک نیتی سے سلام بھیج سکتا ہے، غائبانہ سلام کا جواب اس انداز میں دینا چاہیے: وعليه السّلام و رحمة اللہ یادر ہے کہ عليك وعلیہ السّلام کہنا ثابت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 279 سے ماخوذ ہے۔