277 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: أَبَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ﴿ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ أَهُمُ الَّذِينَ يَزْنُونَ، وَيَسْرِقُونَ، وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ؟ قَالَ: «لَا يَا ابْنَةَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يُصَلُّونَ، وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ»ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور وہ لوگ جو اس چیز کو دیتے ہیں جو انہیں دیا گیا ہے اور ان کے دل لرز رہے ہوتے ہیں۔“ (23-المؤمنون:60) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کا ارتکاب کریں گے اور چوری کریں گے اور شراب پئیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ اے صدیق کی صاحبزادی! یہ وہ لوگ ہیں جو نمازیں پڑھیں گے، روزے رکھیں گے اور صدقہ دیا کریں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس چیز کا علم نہ ہو، اس کا اہل علم سے سوال کر لینا چاہیے۔ اہل علم کو علوم وفنون میں پختہ ہونا چاہیے، تاکہ وہ لوگوں کے سوالوں کا جواب دے سکیں۔ قرآن مجید کی اس آیت سے ثابت ہوا کہ صدقہ وخیرات وہی شخص کرے گا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا، اور یہ مومن لوگ ہی کرتے ہیں، اور وہی صدقہ کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ تو فیق دے، اور جس کا مال اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، ورنہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس مال ہے لیکن وہ ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے۔