حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 275
275 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ قَالَا ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو انتہائی جھگڑالو ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث میں زیادہ جھگڑ نے والے کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو بات بات پر لڑتا ہے۔ اسلام بھائی چارے کا درس دیتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہن کا نقشہ قرآن کریم میں اس انداز میں کھینچا ہے: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29]
اس حدیث میں زیادہ جھگڑ نے والے کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو بات بات پر لڑتا ہے۔ اسلام بھائی چارے کا درس دیتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہن کا نقشہ قرآن کریم میں اس انداز میں کھینچا ہے: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29]
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 275 سے ماخوذ ہے۔