حدیث نمبر: 273
273 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَعَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُ؟ «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَا ذَهَبًا، وَلَا فِضَّةً»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زرد یا سفید چیز یعنی (سونا یا چاندی) کوئی بکری، کوئی اونٹ، کوئی غلام یا کوئی کنیز، کوئی سونا یا کوئی چاندی نہیں چھوڑی ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه البيهقي فى «دلائل النبوة، 274/7 من طريق جعفر بن عون، عن مسعر، بهذا الإسناد. وهو فى صحيح مسلم فى الوصية 1635، وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 6368، 6606،. ونضيف هنا: وأخرجه ابن أبى شيبة 206/11-207 برقم 10987»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1635 | سنن ابي داود: 2863 | سنن ابن ماجه: 2695 | سنن نسائي: 3651 | سنن نسائي: 3652 | سنن نسائي: 3653

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جب آپ فوت ہوۓ تو اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے عام گھر یلو قیمتی اشیاء نہیں چھوڑ یں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 273 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1635 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کوئی دینار چھوڑا اور نہ درہم، نہ بکری، نہ اونٹ، اور نہ کسی (مالی چیز) کے بارے میں وصیت کی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4229]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد مال کے بارے میں یا خلافت کے بارے میں صریح وصیت کا انکار کرنا ہے، وگرنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آپ نے اشارہ اور کنایہ سے وصیت فرمائی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1635 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2863 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´وصیت کرنے کی تاکید کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2863]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت امورشریعت سے متعلق ثابت شدہ ہے۔
بالخصوص نماز کی پابندی غلاموں کے ساتھ حسن سلوک مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالنا اور وفود کے ساتھ حسن معاملہ وغیرہ۔
لیکن مالی امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت نہ تھی۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال چھوڑا ہی نہیں تھا۔
(سنن أبي داود، الخراج، حدیث: 3029، و الأدب، حدیث: 5156۔
و صحیح البخاري، الجذیة، حدیث: 3168)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2863 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2695 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2695]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
رسو ل اللہﷺ نے اس بارے میں یہ فرمایا تھا: ’’میرے وارث، دینار اور درہم تقسیم نہیں کریں گے۔
میری بیویوں کے خرچ او رعامل کے اخراجات کے بعد جو بچے وہ صدقہ ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الوصایا، باب نفقة القیم للموقف، حدیث: 2776)

(2)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو کچھ خاص وصیتیں کی تھیں، یا ان کے حق میں خلافت کی تھی، یہ تصور بالکل غلط ہے جیسا کہ خود حضرت علی﷜ نے اس کی تردید فرمائی ہے۔
دیکھئے، (حدیث: 2658، 2698)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2695 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3651 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3651]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر3624۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3651 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3653 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3653]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ یہ روایت اپنے دو اساتذہ جعفر بن محمد اور احمد بن یوسف سے بیان کرتے ہیں۔ آخری جملے میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جعفر بن محمد یہ روایت بیان کرتے وقت [دِرْھُماً وَلاَ دِینَارًا] کے الفاظ ذکر نہیں کرتے جبکہ احمد بن یوسف ان الفاظ کو نقل کرتے ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود صرف دونوں کی روایت کا فرق بتانا ہے‘ اس سے روایت کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا‘ نیز امام نسائی کے استاد محمد بن رافع بھی ان الفاظ کو بیان کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3653 سے ماخوذ ہے۔