حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 266
266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ قَالَ: «نَعَمْ ثُمَّ تَصِيرُونَ إِلَي رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب برائی پھیل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر سختی نازل کرتا ہے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے؟ جبکہ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے لوگ بھی موجود ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلے جاؤ گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ اس حدیث میں گناہوں کے عام ہونے پر وعید شدید بیان کی گئی ہے کہ گناہوں کا غالب ہونا اللہ تعالیٰ ٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ موجودہ دور کی یہی صورت حال ہے کہ ہر طرف بدی عام ہے، اور غالب ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف قسم کے عذاب بھی نازل ہو رہے ہیں، جس کی لپیٹ میں نیک اور بد تمام لوگ آۓ ہوۓ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ٰ انصاف کو پسند کرتے ہیں، نیکوں پر ظاہری طور وہ عذاب مسلط ہو گا لیکن پھر انھیں اللہ تعالیٰ ٰ اپنی رحمت (جنت) کی طرف بلا لے گا۔ یہاں سے یہ بات بھی سمجھ لگی کہ جب کسی بستی یا شہر پر عذاب آۓ اور اس میں نیک لوگ بھی ہوں، تو لوگ عامۃ الناس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں پر بھی بدوں جیسا حکم لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں فلاں پر بھی اللہ تعالیٰ ٰ کا عذاب نازل ہوا ہے، اور طرح طرح کی باتیں بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس طرح کی سوچ وفکر سے پر ہیز کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ٰ نیک لوگوں کو خوب جانتا ہے، اور ان کی نیکی اور تقویٰ کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان کے فوت ہونے کے بعد انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ اس حدیث میں گناہوں کے عام ہونے پر وعید شدید بیان کی گئی ہے کہ گناہوں کا غالب ہونا اللہ تعالیٰ ٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ موجودہ دور کی یہی صورت حال ہے کہ ہر طرف بدی عام ہے، اور غالب ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف قسم کے عذاب بھی نازل ہو رہے ہیں، جس کی لپیٹ میں نیک اور بد تمام لوگ آۓ ہوۓ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ٰ انصاف کو پسند کرتے ہیں، نیکوں پر ظاہری طور وہ عذاب مسلط ہو گا لیکن پھر انھیں اللہ تعالیٰ ٰ اپنی رحمت (جنت) کی طرف بلا لے گا۔ یہاں سے یہ بات بھی سمجھ لگی کہ جب کسی بستی یا شہر پر عذاب آۓ اور اس میں نیک لوگ بھی ہوں، تو لوگ عامۃ الناس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں پر بھی بدوں جیسا حکم لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں فلاں پر بھی اللہ تعالیٰ ٰ کا عذاب نازل ہوا ہے، اور طرح طرح کی باتیں بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس طرح کی سوچ وفکر سے پر ہیز کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ٰ نیک لوگوں کو خوب جانتا ہے، اور ان کی نیکی اور تقویٰ کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان کے فوت ہونے کے بعد انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 266 سے ماخوذ ہے۔