265 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: «يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ أَبَوَاكَ لَمِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أصَابَهُمُ الْقَرْحُ. . . . . أَبُو بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ»ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا: تمہارے دو باپ (یعنی تمہارے والد اور تمہارے نانا) ان لوگوں میں شامل ہیں، جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» (3-آل عمران:172) ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا۔“ (تمہارے وہ دونوں اجداد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ جنگ احد سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ احد سے ہٹ کر جب مشرکین چند منزل دور چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ مسلمانوں کا پوری طرح خاتمہ کیے بغیر واپس چلے آۓ ہیں۔ تو انہوں نے مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنے کا ارادہ کیا جب اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ڈرانے کے لیے ستر آدمیوں کا قافلہ ان کے پیچھے روانہ کیا ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (نیز دیکھیں: صحيح البخاری: 4077، صحیح مسلم: 4018 اور سنن الکبری للنسائی: 11/17)
مسلمانوں نے ثابت کر دکھا یا کہ وہ احد کے عظیم نقصانات کے بعد بھی کفار کے مقابلہ کے لیے ہمہ تن تیار ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ کے ہر دور میں یہی شان رہی ہے کہ حوادث سے مایوس ہو کر میدان سے نہیں ہٹے بلکہ حالات کا استقلال سے مقابلہ کیا اور آخر کامیابی ان ہی کو ملی۔
آج بھی دینائے اسلام کا یہی حال ہے مگر مایوسی کفر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی کہ ابوسفیان اور اس کا لشکر جب مقم روحاء تک پہنچا توانھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا ہے تاکہ مسلمانوں کو مزید نقصان پہنچائیں، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا ان کا تعاقب کرنا چاہیے تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کو زخموں نے کمزور نہیں کیا اور نہ وہ دشمن کی طلب میں سست ہی ہوئے ہیں۔
ستر مسلمانوں نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دشمن کا تعاقب کیا۔
جب وہ مقام حمراء الاسد پر پہنچے تو معبد خزاعی نے ابوسفیان سے کہا کہ پہلی فوج سے بھی زیادہ لوگ تمہارے تعاقب میں آرہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان اور اس کے لشکر پر رعب ڈال دیا، پھر انھوں نے اُحد واپسی کا پروگرم ترک کرکے مکہ کا رخ کرلیا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مکہ کا تعاقب کرنے والوں میں حضرت ابوبکر ؓ، اورحضرت زبیر ؓ کے علاوہ حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت عمار بن یاسر ؓ، حضرت طلحہ ؓ، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ، حضرت حذیفہ ؓ، اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی تھے، اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں ان حضرات کی مدح سرائی کی ہے۔
(فتح الباري: 467/7)