249 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَي جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ لِي: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَعْجَبُ إِلَي هَذَا وَإِلَي حَدِيثِهِ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ أَحْصَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّعروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس آ کر بیٹھے وہ اس وقت نماز ادا کر رہی تھیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ کہنے لگے: اے حجرے کی مالک خاتون! آپ سنیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز مکمل کی تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے میرے بھانجے! کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کے طرز بیان پر حیرت نہیں ہو رہی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تھے، تو اگر کوئی گننے والا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو) گننا چاہتا تو وہ گن سکتا تھا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر بیان کرتے تھے)۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان نے یہ روایت بھی زہری سے نہیں سنی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تدریس اور خطبے کے دوران بات آہستہ آہستہ کرنی چاہیے، تا کہ سامعین بات کو اچھی طرح سمجھ لیں بعض لوگوں کا تدریس اور خطابت میں تیز تیز بولنا درست نہیں ہے۔