حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 230
230 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو بھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو عورت کو مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا ہے اور اگر ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کو کوئی ولی نہ ہو حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی کے بغیر نکاح باطل ہے۔ آ ج کل عدالتوں میں بغیر ولی کے شادیاں بہت زیادہ ہو رہی ہیں، جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ جو نکاح عدالتوں میں بغیر ولی کے ہو رہے ہیں، حقیقت میں وہ نکاح نہیں ہیں، وہ لڑکا لڑ کی ساری عمر بدکاری کریں گے، اور ان کی اولاد حرامی ہوگی۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ لڑکی کا کوئی ولی نہیں ہے تو اس کا ولی حاکم وقت ہے۔
➊ نکاح میں جس طرح لڑکی کی رضا مندی ضروری ہے، اس طرح اس کے سر پرست کی اجازت بھی ضروری ہے۔
➋ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح شرعاً غیر قانونی ہے، لہٰذا اگر سر پرست اجازت دینے سے انکار کر دے تو میاں بیوی میں جدائی کروا دی جائے گی۔
➌ مقاربت کے بعد جدائی ہونے کی صورت میں مرد کے ذمے پورا حق مہر ادا کرنا لازم ہوگا۔
➍ اسلامی سلطنت میں بادشاہ کو نکاح کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے، اسی طرح بادشاہ کے نائب مقامی حکام بھی یہ حق رکھتے ہیں، موجودہ حالات میں اس قسم کے فیصلے عدالتیں کرتی ہیں، پنچایت میں بھی یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔
➎ اگر کوئی بچی لاوارث ہو اور اس کا کوئی قریبی رشتے دار نہ ہو جو سرپرست کے طور پر اس کے مفادات کا خیال رکھ سکے، تو اس صورت میں بھی اسلامی سلطنت کو سرپرست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسئلہ ولایت نکاح کی مزید تحقیق وتفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب ” مفرورلڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں“ از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی کے بغیر نکاح باطل ہے۔ آ ج کل عدالتوں میں بغیر ولی کے شادیاں بہت زیادہ ہو رہی ہیں، جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ جو نکاح عدالتوں میں بغیر ولی کے ہو رہے ہیں، حقیقت میں وہ نکاح نہیں ہیں، وہ لڑکا لڑ کی ساری عمر بدکاری کریں گے، اور ان کی اولاد حرامی ہوگی۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ لڑکی کا کوئی ولی نہیں ہے تو اس کا ولی حاکم وقت ہے۔
➊ نکاح میں جس طرح لڑکی کی رضا مندی ضروری ہے، اس طرح اس کے سر پرست کی اجازت بھی ضروری ہے۔
➋ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح شرعاً غیر قانونی ہے، لہٰذا اگر سر پرست اجازت دینے سے انکار کر دے تو میاں بیوی میں جدائی کروا دی جائے گی۔
➌ مقاربت کے بعد جدائی ہونے کی صورت میں مرد کے ذمے پورا حق مہر ادا کرنا لازم ہوگا۔
➍ اسلامی سلطنت میں بادشاہ کو نکاح کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے، اسی طرح بادشاہ کے نائب مقامی حکام بھی یہ حق رکھتے ہیں، موجودہ حالات میں اس قسم کے فیصلے عدالتیں کرتی ہیں، پنچایت میں بھی یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔
➎ اگر کوئی بچی لاوارث ہو اور اس کا کوئی قریبی رشتے دار نہ ہو جو سرپرست کے طور پر اس کے مفادات کا خیال رکھ سکے، تو اس صورت میں بھی اسلامی سلطنت کو سرپرست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسئلہ ولایت نکاح کی مزید تحقیق وتفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب ” مفرورلڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں“ از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 230 سے ماخوذ ہے۔